حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعت خواں کا جنات کی نظروں میں مقام

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے رفیق مولانا سید محمد امین گیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کچھ ساتھیوں کے ہمراہ شور کوٹ جلسے میں پہنچا۔ وہاں جا کر دو نظمیں پڑھیں ۔ بعد ازاں رات بسر کرنے کیلئے انتظامیہ نے مجھے ایک استاد صاحب کے خالی کمرے میں ٹھہرا دیا۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ لیٹا ہوا تھا کہ اتنے میں آٹھ دس بچوں کا گروہ آگیا اور منع کرنے کے باوجود وہ مجھے دبانے لگے۔ میں کافی دیر تک انہیں لطیفے سناتا رہا اور وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔میرے دوست سو چکے تھے۔ میں نے بچوں سے کہا کہ اب بس کرو، میں بھی سونے لگاہوں۔ وہ سب اٹھ کر چلے گئے تو میں بھی سونے کی کوشش کرنے لگا۔ بتی جل رہی تھی۔

اتنے میں کسی نے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مجھے دبانا شروع کر دیا۔ آنکھیں کھول کر دیکھا تو پائنتی کی جانب کوئی نہیں تھا۔ میں نے ٹانگیں سیدھی کر لیں۔ دوستوں کودیکھا تو وہ گہری نیند سور ہے تھے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں کسی ایسے واقعے سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ وہ ہاتھ کسی مشین کی سی تیزی سے مجھے مسلسل دبارہے تھے۔ میں نے بلند آواز سے کہا: بھئی تمہاری بڑی مہربانی ، اب بس کرو، مجھے کچھ دیر سو لینے دو۔ یہ نہ ہو کہ فجر کی نماز قضاء ہو جائے ۔ میری بات سنتے ہی وہ غیبی ہاتھ رک گئے اور مجھے نیند آگئی (

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025