مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی مدظلہ (عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت) لکھتے ہیں: بادشاہی مسجد لاہور کے سابق امام و خطیب مولانا سید عبدالقادر آزادؒ کے والد محترم مولانا محمد سعید افغانیؒ (خلیفہ مجاز: حضرت پیر فضل علی قریشیؒ مسکین پور شریف) سے سینکڑوں لوگ اللہ اللہ سیکھ کر اپنے دل کی دنیا آباد کرتے۔ آپ مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ انسانوں کے علاوہ جنات نے بھی آپ سے فیوض و برکات حاصل کیں۔ ان کے بیٹے مولانا عبدالقادر آزادؒ نے مجھے بتایا کہ والد محترم (مولانا محمد سعید افغانیؒ) کے جنات بھی مرید تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے جنات مریدین سے فرمایا کہ کسی بڑی عمر کے جن سے میری ملاقات کرائیں۔ جنات نے کہا: ایک بڑی عمر کے جن کراچی میں قیام پذیر ہیں۔ ان سے درخواست کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مولانا محمد سعید افغانیؒ تشریف لائیں گے تو انہیں دقت ہوگی، میں آجاتا ہوں بشرطیکہ جہاں مولانا تشریف فرما ہوں
(1) وہ زمین کسی کی ناجائز قبضہ شدہ نہ ہو
(2) غیر شرعی شکل اور لباس والا کوئی آدمی وہاں موجود نہ ہو۔ حضرت والا (مولانا محمد سعید افغانیؒ) نے فرمایا: مجھے اس نیک جن کی دونوں شرائط منظور ہیں۔ چنانچہ وہ بزرگ جن انسانی شکل میں تشریف لائے اور جتنی دیر قیام فرما رہے، مسلسل ان کی آنکھوں سے آنسو جاری رہے۔ مولانا محمد سعید افغانیؒ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا: میں رحمتِ عالم حضرت محمد ﷺ کی وفات سے دس منٹ پہلے مسلمان ہوا تھا، اسی وقت سے اپنی کم قسمتی پر آنسو بہا رہا ہوں۔
(بحوالہ: ہفت روزہ ختمِ نبوت، جلد 39 شمارہ 32 صفحہ 23 مطابق 23 اگست 2020ء)
محترم قارئین! ماہنامہ عبقری کے ہر دلعزیز کالم ’’جنات کا پیدائشی دوست‘‘ میں آپ نے حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ کی ایک صحابی جنؓ سے ملاقاتوں کے واقعات کئی بار ملاحظہ کیے ہوں گے۔ کچھ لوگ معلومات میں کمی کی وجہ سے ایسی چیزوں کو من گھڑت قصے کہانیوں سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ یہ حقیقی زندگی کے سچے واقعات تو صدیوں سے ہمارے اکابر و اسلاف کے ساتھ چلے آرہے ہیں۔ البتہ یہ واقعات ہر شخص کے ساتھ نہیں بیت سکتے، کیونکہ اتنا بڑا مقام پانے کیلئے معرفت الٰہی، اخلاص، عشقِ مصطفیٰ ﷺ اور غلامیِ مصطفیٰ ﷺ بھی اپنے اکابر جن جیسی درکار ہوتی ہے۔ جو موجودہ دور میں اللہ پاک نے یہ تمام صلاحیتیں اپنے مقرب بندے حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی ذات میں ودیعت فرمائی ہوئی ہیں۔ اللھم زد فزد
