شیخ الوظائف دامت برکاتہم ہی مزارات سے فیض کے قائل نہیں بلکہ 1400 سال سے اولیائے کرام اس کے قائل ہیں دارالتقویٰ مسجد الہلال چوبرجی سے شائع ہونے والے رسالے ماہنامہ دارالتقویٰ دسمبر 2019 صفحہ 32 پر مولانا محمد اویس صاحب (مدیر ماہنامہ دارالتقویٰ) نے یہ مضمون چھاپا ہے کہ رائے ونڈ کے مولانا فہیم صاحبؒ جو کہ داعی اسلام حضرت حاجی عبدالوہاب رحمہ اللہ کے خادم خاص ہیں انہوں نے علمائے کرام میں بیان کرتے ہوئے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ حکیم الاسلام مہتمم دارالعلوم دیوبند قاری محمد طیب صاحبؒ افغانستان گئے تو وہاں کے بادشاہ نے ان سے فرمایا کہ صبح میرے وزراء میں آپ کا بیان ہوگا لیکن فارسی زبان میں بیان کریئے گا کیونکہ ان کو فارسی زبان ہی آتی ہے۔ مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ فارسی پڑھاتے تو رہے مگر اس زبان میں بیان آپ کیلئے مشکل تھا ساری رات پریشان رہے کہ اہل زبان کے ساتھ ہمکلامی ہے یہ بیان کس طرح ہوگا۔
رات کو خواب میں حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمہارے لیے آسانی ہو جائے گی۔ جب صبح کو آپ بیان کرنے کھڑے ہوئے تو ایسے معارف بیان کیے اور ایسی فصیح زبان میں کہ وہاں موجود تمام لوگ حیران رہ گئے۔ یہ اصل میں شیخ الاسلامؒ کی توجہات کا اثر تھا۔ (ماہنامہ دارالتقویٰ، دسمبر 2019 ص 32، لاہور)
اگر آپ مزارات سے فیض کے حیرت انگیز واقعات اور ان کے دلائل جاننا چاہتے ہیں تو شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کتاب ’’مزارات سے فیض اور ہمارے اکابرؒ ‘‘ کا ضرور مطالعہ کریں۔
