حضرت مولانا محمد ظفر الحق حقانی صاحب لکھتے ہیں کہ : ایک متعلم کا شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ پانچ سال تک خادمانہ تعلق رہا۔ وہ خادم کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں ایک رات آپ تہجد کے لئے اٹھے لیکن مجھے نہ جگایا، میں خود ہی جاگ گیا اور عرض کی : شیخ آپ نے مجھے کیوں نہ جگایا؟ فرمایا: بیٹا آپ سمجھے نہیں ہمارے کمرے میں بے شمار جنات آگئے تھے۔ کمرہ بھرا ہوا تھا، اس لئے آپ کو میرے جگانے کا پتہ نہیں چل سکا
(بحوالہ : ماہنامہ الحق خصوصی اشاعت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمتہ اللہ علیہ بانی دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، ایڈیٹر : حضرت مولانا سمیع الحق شہید )
