دار العلوم میں پہلی تین صفیں خالی کیوں رہتی تھیں؟

قارئین ! جو لوگ کہتے ہیں کہ صرف علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہی کو جنات کیوں نظر آتے ہیں؟ اگر واقعی جنات کا وجود ہے تو علامہ صاحب کے اس پاس موجود دوسرے لوگوں کی نظر سے جنات کیسے اوجھل رہ سکتے ہیں؟ آئیں دیکھتے ہیں کہ کیا حضرت علامہ صاحب سے پہلے بھی کسی ہستی پر جنات کا اظہار ہوا تھا ؟

مولانا عماد الدین محمود صاحب ( خطیب جامع مسجد زکریا چودہوان ) لکھتے ہیں کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ان کے تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ درس حدیث کے دوران طلباء کو آزادی ہوتی کہ وہ اپنے شبہات و اعتراضات اپنی اپنی پرچیوں پر لکھ کر پیش کر دیا کریں۔ آپ ہر پرچی کو کشادہ دلی سے پڑھتے اور جواب عنایت فرما کر طلباء کو مطمئن کر دیتے ۔ ایک مرتبہ جب حضرت مدنی دارالعلوم کے دارالحدیث میں صحیح بخاری شریف پڑھانے کیلئے تشریف فرما ہوئے تو سامنے کی تین صفوں کے طلباء کو پچھلی صفوں میں بیٹھنے کا حکم دے دیا۔

جب وہ پچھلی صفوں میں چلے گئے تو حضرت مدنی نے حدیث پڑھانا شروع کردی طلباء نے سوالیہ پر چیاں بھیجنا شروع کر دیں اور اعتراض کیا کہ ہمیں پچھلی صفوں میں کیوں بٹھایا گیا۔ بار بار یہی سوال آتا اور حضرت مدنی اونچی آواز میں پڑھ کر خاموش ہو جاتے ۔ جب طلباء کا اصرار بڑھ گیا تو حضرت مدنی نے ارشاد فرمایا: آج قاہرہ مصر سے تین سو جنات طالب علم بن کر یہاں دارالعلوم پہنچے ہیں اور مجھ سے حدیث پڑھنے کی نسبت قائم کر کے اجازت طلب کر رہے ہیں۔ اس لیے میں نے ان کا اکرام کرتے ہوئے پہلی تین صفیں خالی کروادی ہیں.

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025