درود تاج تعلیمات اکابر کی روشنی میں ہر پریشانی کا حل

(تحریر : مولانا ابوعون محمد جبلی صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد )

ہر شخص کی اپنی فیلڈ ہوتی ہے اور اس میں وہ ماہر ہوتا ہے ضروری نہیں کہ ہر بندے کو ہر ہرعلم میں مہارت ہو عبقری کا موضوع بذریعہ اعمال لوگوں کو سکھ پہنچانا ہے اور ”عبقری“ کے ہر عمل کے پیچھے قرآن وسنت اور تعلیمات اکا بڑ کی مہرلگی ہوتی ہے۔۔۔! ابھی کچھ دنوں پہلے عبقری رسالے میں درود تاج کاذکر آیا توا کا بڑ کی تعلیمات سے نا آشنا دوستوں کیلئے مناسب معلوم ہوا کہ کچھ کا بڑ کی تعلیمات کی روشنی میں لکھ دیا جائے:

حجتہ الاسلام حضرت مولانا قاسم کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (1) مولانا حکم محمد یسین خواجہ صاحب رحمہ اللہ موضع کرم علی والا ملتان نے اپنی کتاب بیاض مدنی ضمیمہ نمس المعارف جو کہ دارالاشاعت کراچی سے شائع ہوئی ہے اس کتاب میں آپ نے درود تاج کی بڑی برکات لکھی ہیں اور اپنے مشائخ کی پوری سند بھی لکھی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ صبح وشام سات سات بار درود تاج کا پڑھنا بلندی درجات کیلئے مجرب ہے، اس طرح بیمار حضرات کیلئے پانی وغیرہ پر دم کر کے پلانا شفاء دیتا ہے۔ بہت لوگوں کو اس کا تجربہ ہے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور وہ زیارت رسول سیلینیم سے مشرف ہوئے ہیں۔ اکابر کے یہاں درودتاج کی سند : نقل از کتاب محاسبة الاعمال ص 6،5 مؤلف : مفسر قرآن پیر طریقت مولانامحمد عبد اللہ صاحب بہلوی رحمہ اللہ کو 29 جمادی الاول 1390ھ بروز پیر 3/8/1970 مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتم دار العلوم نے دورہ حدیث پاک کے وقت طالب علمی کے زمانے میں عطیہ دیا تھا اور ان کو اس درود پاک کی اجازت حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دار العلوم سے با واسطہ شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب سے ملی۔

حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (2)۔ ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ میری والدہ درود تاج بڑے شوق سے پڑھتی تھیں کسی نے ان سے کہا کہ امام اولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ تو اس کے قائل نہیں ہیں میری والدہ نے حضرت لاہوری سے عرض کی تو آپ نے فرمایا کہ ذوق و شوق اور محبت میں پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ دافع البلاء والوباء کو اس معنی میں پڑھا جائے کہ حضور سلیم بلا و و ا کے دور رہنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں فائل حقیقی اللہ رب العزت ہی کی ذات ہے حضور سینہ پینم وسیلہ اور واسطہ ہیں ۔ تائید میں پھر حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے دلائل الخیرات شریف” کا حوالہ دیا کہ اس میں حضور صلی ایم کے اسماء صفاتی میں کاشف الکرب“ موجود ہے اور تمام اکا بڑا اس کے پڑھنے کی باقاعدہ اجازت دیتے ہیں جب وہاں ہا تاویل جائز ہے تو یہاں بھی با تاویل جائز ہی ہے۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (3) – محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں اگر کسی کا ذوق و شوق اس ( درود تاج) کے پڑھنے کا ہے تو پڑھ سکتا ہے، لیکن وہ جو دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات وافعال ہیں ان کا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال مجاز ادرست ہے، آپ سی اینم کو وسیلہ و واسطہ مجھ کر تو گنجائش نکل سکتی ہے، اگر حقیقتا ان کے معانی مراد نہ ہوں ، بلکہ مجاز امراد ہوں تو شرک نہ ہوگا۔

جامعہ بنوریہ عالمیہ کے دارالافتاء کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (4) – مفتی سیف اللہ جمیل صاحب رئیس دار الافتاء جامعہ بنوریہ اور مفتی نا در جان صاحب نائب رئیس دار الافتاء جامعہ بنورید، درود تاج ، درود ماهی، درود مستجاب ، درود اکبر، درود تنجینا ، درود لکھی ، دعائے گنج العرش ان تمام درودوں(تفصیل کیلئے دیکھیں

(1) محدث کبیر ، مفتی اعظم مولانا مفتی محمد فرید ” جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک درود تاج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ” جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا اور توسل سے بلا وغیرہ کو دفع کرتا ہے اس کیلئے ( درود تاج ) پڑھنا جائز ہے۔

(2) شیخ التفسیر حضرت مولانا عبداللہ بہلوی فرماتے ہیں : جو شخص زیارت رسول صلی اینم کا طالب ہو اسے چاہیے کہ 313 مرتبہ درود تاج 21 دن تک بلا ناغہ پڑھے تو زیارت فیض بشارت سے مشرف ہوگا ، ہزاروں لوگوں کو فائدے ہوئے ہیں اور زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔

(3) علامہ ارشد حسن ثاقب صاحب دامت برکاتہم فاضل جامعہ اشرفیہ فرماتے ہیں درود تاج نہایت ہی مقبول و معروف ہے، مالی پریشانیوں کے حل ، مشکلات و بلیات کے تدارک اور قضائے حاجات کیلئے سریع الاثر ہے ( بحوالہ جامع الوظائف ص 264 ، ناشر : ادارۃ القریش لاہور ۔ اس کتاب میں موجود عملیات اور درود تاج کی تصدیق کرنے والے علمائے کرام۔ (۱) مفتی شاہد عبید صاحب نائب مفتی جامعہ اشرفیہ لاہور۔ (۲) حضرت مولا ناڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب ۔ (۳) حضرت مولاناعدنان کاکا خیل صاحب۔ (۴) شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب اشرفی – (۵) استادالحدیث حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم) (4) مولانا خلیل احمد صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد فرماتے ہیں کہ میں نے اس درود تاج کو نوکری میں ترقی اور پاکٹ منی میں برکت کیلئے ، ہر بیماری سے نجات کیلئے ، سانپ بچھو اور موذی جانور کے کاٹے کےعلاج کیلئے نہایت ہی مجرب پایا ہے۔

(5) مولانا قاری عطاء اللہ صاحب فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور فرماتے ہیں کہ میں نے اس درود تاج کو سخت ترین جنات سے خلاصی کیلئے تسخیر خلائق کیلئے ، حاملہ کی صحت کیلئے بانجھ پن دور کرنے کیلئے ، زیارت رسول صلی شما نیستم کیلئے ، صاحب کشف بننے کیلئے بہت آزمودہ پایا ہے۔ (6) مولانا عبدالغفار صاحب، فاضل جامعہ حنفیہ کراچی و فاضل وفاق المدارس العربیہ فرماتے ہیں خواب میں زیارت النبی صلی اینم کیلئے فوری شادی کیلئے ، حاسدین سے حفاظت کیلئے ، گناہوں سے بچنے اور بے بہا رزق کیلئے ، ایک ہفتہ میں جنات کے خاتمہ کیلئے لا جواب پایا۔

آخری گزارش : جامعہ امدادیہ سے فارغ ہونے کے بعد جب سے میں نے درود تاج کے بارے میں حضرت امام اولیاء مولانا احمدعلی لاہوری کا واقعہ پڑھا اس وقت سے میری جستجو اس درود پاک کے بارے میں بڑھتی گئی ۔ دَافِعِ الْبَلَاءِ وَالْوَبَاءِ وَالْقَعْطِ وَالْمَرَضِ وَالْآلم “ کے جو الفاظ درودتاج میں نقل کیے گئے ہیں اس سے مراد مجازی معنی ہی ہیں جو کہ وسیلہ ہونے میں آتے ہیں اور آپ مانی پریتم کی ذات اقدس جو سارے جہانوں کیلئے رحمت ہیں ان سے بڑا وسیلہ کیا ہوسکتا ہے ۔ آپ سال یا پینم کی بتائی ہوئی دعا سے نابینا صحابی کو شفا ہل گئی

آپ سلیم کی ذات اقدس کی موجودگی عذاب ٹل جانے کا ذریعہ

آپ سائی یا پی ایم کے وسیلے سے بارش کا نازل ہونا

آپ مسی یا سیستم کے لعاب مبارک کو پانی میں ڈالنے سے فاتر اعقل کا صحت یاب ہو جانا

آپ سا نیا پین کی دعا کی برکت سے قحط سالی خوش حالی میں بدل جانا۔

الفاظ میں اگر معنی مجازی مراد لیا جائے تو کوئی اختلاف نہیں رہتا اور بہت سے اہل علم یہی معنی مراد لیتے ہیں چند ایک حوالہ جات پیش خدمت ہیں: کوئی مسلمان بھی حضور سالیان بینم کو دافع حقیقی نہیں سمجھتا، دافع حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات اقدس ہے نبی کریم سالی یا یہ ہم محض وسیلہ ہونے کی حیثیت سے دافع مجازی ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

محترم قارئین! عبقری تو صرف ایک ڈاکیہ ہے جوا کا بڑ کی ڈاک آپ تک پہنچاتا ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تبارک تعالیٰ اس کی ہر حاسد کے حسد اور ہر شریر کے شر سے حفاظت فرمائیں۔ آمین

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025