(تحریر: مولانا ابو عون محمد جہلمی صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد)
ہر شخص کی اپنی فیلڈ ہوتی ہے اور اسی میں وہ ماہر ہوتا ہے ضروری نہیں کہ ہر بندے کو ہر علم میں مہارت ہو ”عبقری“ کا موضوع بذریعہ اعمال لوگوں کو سکھ پہنچانا ہے اور ”عبقری“ کے ہر عمل کے پیچھے قرآن و سنت اور تعلیماتِ اکابرؒ کی مہر لگی ہوتی ہے۔۔۔! ابھی کچھ دنوں پہلے ”عبقری“ رسالے میں درودِ تاج کا ذکر آیا تو اکابر کی تعلیمات سے ناآشنا دوستوں کیلئے مناسب معلوم ہوا کہ کچھ اکابر کی تعلیمات کی روشنی میں لکھ دیا جائے:
حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی طرف سے درودِ تاج کی اجازت:
(2)۔ ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ میری والدہ درودِ تاج بڑے شوق سے پڑھتی تھیں کسی نے ان سے کہا کہ امام اولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ تو اس کے قائل نہیں ہیں میری والدہ نے حضرت لاہوریؒ سے عرض کی تو آپ نے فرمایا کہ ذوق و شوق اور محبت میں پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ”دافع البلاء والوباء“ کو اس معنی میں پڑھا جائے کہ حضور ﷺ بلا و وبا کے دور رہنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں فاعلِ حقیقی اللہ رب العزت ہی کی ذات ہے حضور ﷺ وسیلہ اور واسطہ ہیں۔ تائید میں پھر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ”دلائل الخیرات شریف“ کا حوالہ دیا کہ اس میں حضور ﷺ کے اسماءِ صفاتی میں ”کاشف الکرب“ موجود ہے اور تمام اکابر اس کے پڑھنے کی باقاعدہ اجازت دیتے ہیں جب وہاں بالتاویل جائز ہے تو یہاں بھی بالتاویل جائز ہی ہے۔ (ہفت روزہ خدام الدین، امام الاولیاء حضرت لاہوری نمبر ص 324، اشاعت 1979ء)
حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسمؒ کی طرف سے درودِ تاج کی اجازت:
(1)۔ مولانا حکیم محمد یٰسین خواجہ صاحب رحمہ اللہ موضع کرم علی والا ملتان نے اپنی کتاب بیاضِ مدنی ضمیمہ شمس المعارف جو کہ دارالاشاعت کراچی سے شائع ہوئی ہے اس کتاب میں آپ نے درودِ تاج کی بڑی برکات لکھی ہیں اور اپنے مشائخ کی پوری سند بھی لکھی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ صبح و شام سات سات بار درودِ تاج کا پڑھنا بلندیٔ درجات کیلئے مجرب ہے، اسی طرح بیمار حضرات کیلئے پانی وغیرہ پر دم کر کے پلانا شفاء دیتا ہے۔ بہت لوگوں کو اس کا تجربہ ہے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور وہ زیارتِ رسول ﷺ سے مشرف ہوئے ہیں۔ اکابر کے یہاں درودِ تاج کی سند: نقل از کتاب محاسبۃ الاعمال ص 5، 6 مؤلف: مفسرِ قرآن پیرِ طریقت مولانا محمد عبداللہ صاحب بہلوی رحمہ اللہ کو 29 جمادی الاول 1390ھ بروز پیر 1970/3/8ء مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم نے دورۂ حدیث پاک کے وقت طالب علمی کے زمانے میں عطیہ دیا تھا اور ان کو اس درودِ پاک کی اجازت حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم سے بواسطہ شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحبؒ سے ملی۔ (بحوالہ کتاب بیاضِ مدنی ضمیمہ شمس المعارف ص 627، مرتب مولانا حکیم محمد یٰسین خواجہ صاحب موضع کرم علی والا ملتان، ملتان، ناشر: دارالاشاعت کراچی)
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی طرف سے درودِ تاج کی اجازت:
(3)۔ محدثِ العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں اگر کسی کا ذوق و شوق اس (درودِ تاج) کے پڑھنے کا ہے تو پڑھ سکتا ہے، لیکن وہ جو دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات و افعال ہیں ان کا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال مجاز اور درست ہے، آپ ﷺ کو وسیلہ و واسطہ سمجھ کر تو گنجائش نکل سکتی ہے، اگر حقیقتاً ان کے معنی مراد نہ ہوں، بلکہ مجازاً مراد ہوں تو شرک نہ ہوگا۔ (فتاویٰ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، فتویٰ نمبر: 143908200078)
جامعہ بنوریہ عالمیہ کے دارالافتاء کی طرف سے درودِ تاج کی اجازت:
(4)۔ مفتی سیف اللہ جمیل صاحب رئیس دارالافتاء جامعہ بنوریہ اور مفتی نادر جان صاحب نائب رئیس دارالافتاء جامعہ بنوریہ، درودِ تاج، درودِ ماہی، درودِ مستجاب، درودِ اکبر، درودِ تنجینا، درودِ لکھی، دعائے گنج العرش ان تمام درودوں اور دعاؤں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کا پڑھنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
(تفصیل کیلئے دیکھیں فتویٰ نمبر 19558، تاریخ 20/6/2013ء دارالافتاء جامعہ عالمیہ بنوریہ سائٹ کراچی)
محترم قارئین! عبقری کے وظائف خود ساختہ نہیں۔۔۔ بلکہ ہمیں اپنے اکابرؒ کے دامن سے جڑنے کی ضرورت ہے۔۔۔!
مشکلات و بلیات سے نجات درودِ تاج کے ذریعے
(1) محدث کبیر، مفتی اعظم مولانا مفتی محمد فریدؒ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک درودِ تاج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا اور توسل سے بلا وغیرہ کو دفع کرتا ہے اس کیلئے (درودِ تاج) پڑھنا جائز ہے۔ (فتاویٰ فریدیہ ج 1 ص 347، تخریج و ترتیب مفتی محمد وہاب مدرس دارالعلوم صدیقیہ زروبی، ناشر: دارالعلوم صدیقیہ زروبی صوابی)
(2) شیخ التفسیر حضرت مولانا عبداللہ بہلویؒ فرماتے ہیں: جو شخص زیارتِ رسول ﷺ کا طالب ہو اسے چاہیے کہ 313 مرتبہ درودِ تاج 21 دن تک بلا ناغہ پڑھے تو زیارتِ فیض بشارت سے مشرف ہوگا، ہزاروں لوگوں کو فائدے ہوئے ہیں اور زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ (کتاب: محاسبۃ الاعمال فی الغد و الآصال ص 5 مصنف: شیخ التفسیر حضرت مولانا عبداللہ بہلویؒ)
(3) علامہ ارشد حسن ثاقب صاحب دامت برکاتہم فاضل جامعہ اشرفیہ فرماتے ہیں درودِ تاج نہایت ہی مقبول و معروف ہے، مالی پریشانیوں کے حل، مشکلات و بلیات کے تدارک اور قضائے حاجات کیلئے سریع الاثر ہے ۔(بحوالہ جامع الوظائف ص 264، ناشر: ادارۃ القریش لاہور۔ اس کتاب میں موجود عملیات اور درودِ تاج کی تصدیق کرنے والے علمائے کرام۔ (1) مفتی شاہد عبید صاحب نائب مفتی جامعہ اشرفیہ لاہور۔ (2) حضرت مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب۔ (3) حضرت مولانا عدنان کاکاخیل صاحب۔ (4) شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب اشرفی۔ (5) استاد الحدیث حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم)
(4) مولانا خلیل احمد صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد فرماتے ہیں کہ میں نے اس درودِ تاج کو، نوکری میں ترقی اور پاکٹ منی میں برکت کیلئے، ہر بیماری سے نجات کیلئے، سانپ بچھو اور موذی جانور کے کاٹے کے علاج کیلئے نہایت ہی مجرب پایا ہے۔
(5) مولانا قاری عطاء اللہ صاحب فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور فرماتے ہیں کہ میں نے اس درودِ تاج کو سخت ترین جنات سے خلاصی کیلئے، تسخیرِ خلائق کیلئے، حاملہ کی صحت کیلئے، بانجھ پن دور کرنے کیلئے، زیارتِ رسول ﷺ کیلئے، صاحبِ کشف بننے کیلئے بہت آزمودہ پایا ہے۔
(6) مولانا عبدالغفار صاحب، فاضل جامعہ حنفیہ کراچی و فاضل وفاق المدارس العربیہ فرماتے ہیں خواب میں زیارتِ النبی ﷺ کیلئے، فوری شادی کیلئے، حاسدین سے حفاظت کیلئے، گناہوں سے بچنے اور بے بہا رزق کیلئے، ایک ہفتہ میں جنات کے خاتمہ کیلئے لاجواب پایا۔
آخری گزارش: جامعہ امدادیہ سے فارغ ہونے کے بعد جب سے میں نے درودِ تاج کے بارے میں حضرت امام اولیاء مولانا احمد علی لاہوریؒ کا واقعہ پڑھا اُس وقت سے میری جستجو اس درودِ پاک کے بارے میں بڑھتی گئی۔ ”دَافِعِ الْبَلَاءِ وَالْوَبَاءِ وَالْقَحْطِ وَالْمَرَضِ وَالْاَلَمِ“ کے جو الفاظ درودِ تاج میں نقل کیے گئے ہیں اس سے مراد مجازی معنی ہی ہیں جو کہ وسیلہ ہونے میں آتے ہیں اور آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس جو سارے جہانوں کیلئے رحمت ہیں ان سے بڑا وسیلہ کیا ہو سکتا ہے۔ آپ ﷺ کی بتائی ہوئی دعا سے نابینا صحابی کو شفا مل گئی (ترمذی ج 2، ص 197)۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس کی موجودگی عذاب ٹل جانے کا ذریعہ (سورۂ انفال آیت 33)۔ آپ ﷺ کے وسیلے سے بارش کا نازل ہونا (تاریخ ابن عساکر بحوالہ المواہب اللدنیہ 272)۔ آپ ﷺ کے لعابِ مبارک کو پانی میں ڈالنے سے فاتر العقل کا صحت یاب ہو جانا (مسند احمد ج 6 ص 379)۔ آپ ﷺ کی دعا کی برکت سے قحط سالی خوش حالی میں بدل جانا۔ (بخاری ج 1 ص 140)
”دَافِعِ الْبَلَاءِ وَالْوَبَاءِ وَالْقَحْطِ وَالْمَرَضِ وَالْاَلَمِ“ الفاظ میں اگر معنی مجازی مراد لیا جائے تو کوئی اختلاف نہیں رہتا اور بہت سے اہل علم یہی معنی مراد لیتے ہیں چند ایک حوالہ جات پیش خدمت ہیں: کوئی مسلمان بھی حضور ﷺ کو دافع حقیقی نہیں سمجھتا، دافع حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذاتِ اقدس ہے نبی کریم ﷺ محض وسیلہ ہونے کی حیثیت سے دافع مجازی ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ”وَمَا کَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِیْهِمْ وَمَا کَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ“۔
(کتاب الامن والعلیٰ بحوالہ حضرت داتا گنج بخش اور درودِ تاج شریف ص 16، ترتیب: خلیل احمد رانا، ناشر: دارالفیض گنج بخشؒ لاہور۔ مجرباتِ محسن ص 128 مصنف: مولانا محمد محسن منور یوسفی، ناشر: الحسن مکتبہ لاہور۔ عقیدہ توسل، تبرک کی شرعی حیثیت، مصنف: شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب، ناشر: منہاج القرآن لاہور۔ اسلام میں وسیلے کا تصور، مصنف: مولانا محمد معراج الاسلام صاحب، ناشر: شریف پرنٹنگ پریس لاہور)
محترم قارئین! عبقری تو صرف ایک ڈاکیہ ہے جو اکابر کی ڈاک آپ تک پہنچاتا ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی ہر حاسد کے حسد اور ہر شریر کے شر سے حفاظت فرمائیں۔ آمین
