دو انمول خزانہ کے بارے میں غلط فہمی کا ازالہ

(مولا نا طبیل شمسی صاحب، جامعہ دارالقومی لاہور )

ایک ایسی غلط فہمی کا ازالہ جو بڑی ہستی کی طرف منسوب کی گئی اور جس کی کوئی حقیقت نہیں۔۔۔!

دو انمول خزانہ سب سے پہلے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو ان کے مرشد قطب الاقطاب حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ ہجویریؒ نے 1984 میں عطا فرمایا اور اس وقت سے آپ نے لوگوں کو بتانا شروع کر دیا سب سے پہلی مرتبہ اس کی باقاعدہ اشاعت احمد پور شرقیہ منیر چوک میں واقع سلیمی بک ڈپو سے ہوئی اور وہ بھی اس طرح کہ اس ادارے کے مالک کے ساتھ شیخ الوظائف کے قریبی روابط تھے اسی وجہ سے اس ادارے کے مالک نے خود اس بات کا اظہار کیا کہ میں اس وظیفہ کو چھاپنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں 10000 کی تعداد میں پہلی اشاعت عمل میں لائی گئی اس کے بعد اگلا ایڈیشن مزید اضافہ کے ساتھ شائع کیا گیا۔

اللہ کریم کی عطا کہ اس وظیفہ کو ایسی مقبولیت حاصل ہوئی کہ جو بہت ہی کم اعمال کو نصیب ہوتی ہے اس وظیفہ کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھ کر بہت سے لوگوں نے اپنے نام سے اس کو شائع کرنا شروع کر دیا اور بہت سے اداروں نے کمائی حاصل کرنے کیلئے اسے دیگر بزرگان کی طرف منسوب کر کے شائع کیا۔۔۔! یہی ستم ظریفی عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی صاحب رحمۃ اللہ کے ساتھ بھی ہوئی کہ ان کی کتاب "مومن کی زندگی کا ہر لمحہ ربیع الاول ہے” میں دو انمول خزانہ کو حضرت عارف باللہ کے انتقال کے بعد منسوب کر کے شائع کیا گیا یہ ایک بہت بڑی جسارت تھی جس پر کراچی کے بہت سے اہل علم اور واقف کار سنجیدہ فکر دانش حضرات نالاں تھے۔ حضرت عارفیؒ کے صاحبزادے ڈاکٹر حسن صاحب کی لاہور میں شیخ الوظائف سے ملاقات ہوئی تو اس ملاقات میں انہوں نے اس وظیفہ کی حضرت عارفیؒ کی طرف نسبت کا واضح انکار کیا اور فرمایا کہ ہمارے والد ماجد سے اس قسم کا کوئی وظیفہ انمول خزانہ منقول نہیں، نہ آپ نے اس قسم کا وظیفہ خود پڑھا ہے اور نہ ہی مریدین کو دیا ہے۔۔۔! اسی طرح عارفی جیولرز کے مالک محترم ممتاز عارفی صاحب جو کہ ڈاکٹر عبدالحئی عارفی نور اللہ مرقدہ کے خاص صحبت یافتہ ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت عارفیؒ کے معمولات میں ایسا کوئی عمل میری نگاہ سے نہیں گزرا۔

اگر دیکھا جائے انمول خزانہ کی نسبت کسی اور کی طرف عقلی اعتبار سے بھی درست نہیں ہے کیونکہ جو انداز بیان عبقری اور شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا ہے وہی کا وہی انداز بیان واقعات اور مشاہدات کی شکل میں انمول خزانہ کا بھی ہے اور دوسری چیز اگر آپ اس کا مطالعہ کریں تو جگہ جگہ مشاہدات میں حکیم صاحب لکھا ہوا ہے ڈاکٹر صاحب نہیں لکھا تو پتا چلتا ہے کہ یہ مشاہدات حضرت حکیم طارق صاحب کو لکھے گئے ہیں حضرت ڈاکٹر عارفی صاحب کو نہیں لکھے گئے۔۔۔!

احادیث مبارکہ میں متفرق طور پر اس کے حوالہ جات موجود ہیں لیکن باقاعدہ طور پر اس باکمال وظیفہ کی سب سے پہلی اشاعت کی سعادت شیخ الوظائف کو حاصل ہوئی اور آج دنیا بھر میں سینکڑوں ادارے لاکھوں کی تعداد میں اس انمول خزانہ کو چھاپ کر دنیا بھر کی مشکلات ٹلوانے اور آسانیاں پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اللہ پاک انمول خزانہ کے نام سے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے، یوم محشر کے دن ترازوں میں تلنے اور شافع محشر ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ بنائے۔ آمین

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025