علامه محمد بن اسماعیل میر نے "بلوغ المرام کی شرح "سبل السلام میں لکھا ہے کہ تلاوت قرآن اور تمام بدنی عبادتوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اور دلائل کی روشنی میں یہ بات زیادہ قوی ہے۔ اسی طرح علامہ شوکانی مالی نے بھی اپنی کتاب "نیل الاوطار“ میں اس بات کو حق کہا ہے۔
امام احمد بن حنبل کا فرمان ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب میت کو ملتا ہے۔ علمائے احناف رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ انسان کیلئے میت کو اعمال کا ثواب بخشنا جائز ہے۔
علامه نواب سید محمد صدیق حسن خان لکھتے ہیں کہ آدمی جو کچھ بھی صدقہ و خیرات کرے، اس میں اپنے والدین کی نیت بھی کرلے، تو اس سے اس کا ثواب کم نہیں ہوگا ، بلکہ دونوں کو برا بر ثواب ملتا ہے۔
بعض اکابر و اسلاف کے متعلق واقعات ملتے ہیں کہ راستے میں چلتے ہوئے اگر کوئی پتھر راستے کے درمیان پڑے ہوئے دیکھتے تو اس حدیث کے پیش نظر راستے سے تکلیف دہ چیز کا بٹانا بھی صدقہ ہے ) ایک پتھر دائیں طرف پھینک دیتے اور اس میں والد کی نیت کرتے۔ پھر دوسرا پتھر بائیں طرف پھینک دیتے اور اس میں والدہ کی نیت کرتے اور بعض اسلاف کے متعلق یہ واقعات بھی ملتے ہیں کہ وہ سخت ناگواری کے موقع پر غصہ پی جاتے اور اس میں بھی والدین کیلئے صدقہ کی نیت کر لیتے۔
(بحوالہ کتاب: اسعاد العبادس 63 مرتب: مولانا عبد الواحد، ناشر : امین پور بازار فیصل آباد )
ضرت شیخ الہند ایک دن طلباء کو قطبی پڑھا رہے تھے، جوفن منطق کی کتاب ہے۔ بہت کم اسا تذہ قطبی کا سبق پڑھانا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ طلباء بھی اس کتاب کو فلسفہ منطق سمجھ کر بے رغبتی سے پڑھتے ہیں۔ حضرت شیخ الہند اس وقت دار العلوم کے شیخ الحدیث تھے۔ اسی دوران ایک شخص نے آکر کہا: میرے والد فوت ہو گئے ہیں ، آپ اور آپ کے طلباء سے ایصال ثواب کی درخواست ہے ۔ آپ نے طلباء سے فرمایا : ہم نے قطبی کا جو سبق پڑھا ہے، اس کا ثواب ان کے والد کو بخش دو۔ یہ سن کر سب حیران ہو گئے ۔ اس شخص نے کہا: حضرت آپ تلاوت قرآن کا ایصال ثواب کرتے ، یہ تو منطق کی کتاب ہے فرمایا : اگر کوئی اخلاص کے ساتھ قطبی کو پڑھے تو اللہ پاک جو ثواب قرآن کی تلاوت اور صحیح بخاری جیسی کتب احادیث پر عطا کرتے ہیں، وہی ثواب منطق کی کتاب پڑھنے پڑھانے پر بھی عطا کرتے ہیں۔
(حوالہ: ماہنامہ الخیری 2019 صفحہ 38 ناشر : جامعہ خیر المدارس ، اورنگ زیب روڈ ملتان )
جائز نا جائز ، حلال حرام اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے.
