قسط نمبر 74
جنات سے گفتگو کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم
اکابر پر اعتماد
محدث زمانہ مفسر یگانہ حضرت علامہ امام جلال الدین سیوطی روی علیہ فرماتے ہیں: امام ابن ابی الدنیار نے اپنی کتاب ” مكائد الشیطان میں اور علامہ ابوالشیخ ایشیعلیہ نے "کتاب العظمیہ میں حضرت ابو اسحاق ریلی علیہ سے روایت کی ہے کہ ایک رات حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں گئے تو وہاں شور سنا۔ انہوں نے آواز دے کر پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ وہاں سے ایک جن کی آواز آئی کہ ہم پر قحط پڑ گیا ہے اس لیے میں نے چاہا کہ آپ کے باغ میں سے کچھ پھل لے لوں، لہذا آپ خوشی خوشی ہمیں کچھ ہدیہ عنایت کر دیں۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے لے جاؤ مگر کیا تم مجھے وہ چیز نہیں بتاؤ گئے جس کے ذریعے ہم تم سے پناہ میں رہیں؟ اس جن نے کہا: وہ چیز تو آیت الکرسی
اسی طرح امام ابن ابی الدنیا علی مکاند الشیطان میں حضرت ولید بن مسلم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی ایک درخت کے پاس گیا تو اس نے وہاں کچھ حرکت سنی۔ اس نے آواز دی تو کوئی جواب نہ ملا۔ پھر اس نے آیتہ الکرسی پڑھی تو اس کے پاس ایک جن اتر آیا۔ اس آدمی نے پوچھا: ہمارا ایک آدمی بہار ہے ہم اس کا علاج کس چیز سے کریں؟ جن نے کہا: اسی چیز سے جس
کے ذریعے تم نے مجھے درخت سے نیچے اتارا ہے یعنی آیتہ الکرسی کے دم سے اس کا علاج کرو۔ (بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان، صفحہ 240 ناشر: مکتبہ برکات المدینہ جامع مسجد بہار کراچی) محترم قارئین ! جنات سے ملاقات اور گفتگو کرنا ان سے وظائف پوچھنا یا ان سے احادیث کی روایات لینا تو ہمارے تمام اکابر سے تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔ موجودہ دور میں انہی اکابرین امت کے سچے خادم اور تعلیمات اکابر کے مخلص داعی ومبلغ حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم بھی مخلوق خدا کو جنات کے شر سے بچنے کے وظائف قوم جنات ہی سے پوچھ پوچھ کر ماہنامہ عبقری کے ذریعے بتا رہے ہیں ۔ جو اس چیز کا واضح ثبوت ہیں کہ ہر دور میں ایسے اولیائے کرام موجود رہیں گے، جن پر اللہ تعالیٰ کا ئنات کا ماورائی نظام کھول دیتا ہے۔ انسانوں کی طرح جنات بھی ایسے اولیائے کرام
سے محبت کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرنا اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔
