(تحریر : مولا نا دانش رضا خان فاضل وفاق المدارس العربيه )
18/10/2018 بعد نماز مغرب تسبیح خانہ جمعرات کے درس میں یہ واقعہ سنایا گیا تو فیس بک پر بعض دوست اس واقعہ کا حوالہ مجھ سے طلب کرنے لگے ۔ میں نے ان تمام دوستوں سے عرض کیا کہ اللہ کے فضل وکرم سے ایڈیٹر عبقری کے درس میں بیان کی جانے والی ہر بات باحوالہ اور اکابر کی زندگی میں موجود ہوتی ہے افادہ عام کیلئے تمام دوستوں کو اس کا حوالہ پیش کیا جارہا ہے : حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : عرب کی ایک جماعت ایک مشہور سخی کریم کی قبر کی زیارت کو گئی ۔ دور کا سفر تھا ، رات وہیں ٹھہرے اور سو گئے۔ ان میں سے ایک شخص نے اس قبر والے کو خواب میں دیکھا، جو اس سے کہہ رہا ہے : کیا تو اپنے اونٹ کو میرے بختی اونٹ کے بدلے فروخت کرتا ہے؟ ( بختی اونٹ اعلیٰ قسم کے اونٹوں میں شمار ہوتا ہے، جو اس میت نے ترکہ میں چھوڑا تھا) خواب دیکھنے والے نے خواب ہی میں معاملہ کر لیا۔ وہ صاحب قبر اٹھا اور اس کے اونٹ کو ذبح کر دیا۔ جب یہ اونٹ والا نیند سے بیدار ہوا تو اس کے اونٹ کی گردن سے خون جاری تھا۔ اس نے اٹھ کر اسے مکمل ذبح کر دیا اور گوشت تقسیم کر دیا۔ سب نے پکایا اور کھایا۔
پھر یہ لوگ وہاں سے واپس ہوئے اور جب اگلی منزل پر پہنچے تو ایک شخص بختی اونٹنی پر سوار ملا، جو یہ تحقیق کر رہا تھا کہ فلاں نام کا شخص تم میں کوئی ہے؟ اس خواب والے شخص نے کہا: یہ میرا ہی نام ہے۔ اس نے پوچھا: کیا تو نے اُس قبر والے کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی تھی ؟ خواب دیکھنے والے نے اپنا پورا قصہ سنایا۔ جو شخص بختی اونٹنی پر سوار تھا، اس نے کہا: وہ میرے ابا جان کی قبر تھی ، یہ ان کی بختی اونٹنی ہے۔ انہوں نے مجھے خواب میں آکر کہا تھا کہ اگر تو میری اولاد ہے تو میرا بختی اونٹ فلاں شخص کو دے دے۔ لہذا یہ اونٹ اب تیرے حوالے ہے۔ ہے۔ یہ کہ کر وہ شخص چلا گیا.
( بحوالہ : اتحاف السادة المتقين شرح احياء علوم الدین (امام غزائی ) ، مصنف : علامہ محمد بن محمد الحسینی الزبیدی ” ناشر : دار الكتب العلمية ، بیروت لبنان بحوالہ کتاب: فضائل صدقات ، حصہ دوم صفحہ 711 مصنف : حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی، ناشر: کتب خانہ فیضی لاہور، پاکستان )
