سیالکوٹ کے پرنسپل کو تبع تابعی بننے کا شرف کیسے ملا؟


محترم قارئین! جو لوگ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم” جنات کا پیدائشی دوست” کے مصنف علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی جنات سے ملاقات ہونے کے منکر ہیں ، یا ان کے اس عظیم مقام پر شک کرتے ہیں ، ان کیلئے تحقیقی دنیا کے دروازے ابھی کھلے ہوئے ہیں۔ اپنا مطالعہ وسیع کریں، اپنی سوچ کو پختہ کریں اور اپنے عقائد کو قرآن وحدیث کے مطابق درست کریں۔ کیونکہ قرآن و حدیث کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ دل و جان سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے۔

اکابرین اہل سنت میں سے ایک مشہور و معروف ہستی حضرت علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی قادری رحمة الله عليہ لکھتے ہیں کہ میرے دوست محترم احسان صابری صاحب ( سابق پرنسپل گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ سیالکوٹ) کا معمول ہے کہ ہر جمعرات کو اولیائے کرام کے مزار پر حاضر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں ایک شام سیالکوٹ کی عظیم علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی رحمة الله عليہ کے مزار پر حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہاں ایک افغانی طرز کے پٹھان نہایت خوش الحانی سے قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہیں۔ کافی دیر بعد جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے سوال کیا کہ آپ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا: میرا نام عبدالرحمان ہے اور میں کابل کا رہنے والا ہوں۔ میں نے پوچھا: آپ کی عمر کتنی ہے؟ انہوں نے فرمایا : ساڑھے 9 سو سال ۔ مجھے یقین نہ آیا اور میں نے کہا: کیا آپ تلاوت قرآن کرنے کے بعد بھی جھوٹ بولتے ہیں؟ یہ سنتے ہی وہ جلال میں آگئے اور ان کا سر بڑا ہونا شروع ہو گیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ انسان نہیں ، بلکہ جن ہیں ۔ فرمانے لگے: میرے والد صاحب کا نام عبد اللہ ہے اور وہ ضعیف العمر ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا عہد مبارک دیکھا اور ان کے دست مبارک پر بیعت کر کے صحابیت کا مرتبہ پایا ہوا ہے۔

صحاح ستہ کی احادیث مبارکہ میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ حضور سرور دو عالم صلى الله عليه وسلم کے دست مبارک پر ایک ہزار جنات نے بیعت کی تھی۔ انسانوں میں اس حدیث کے راوی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں اور جنات میں اس حدیث کے راوی میرے والد عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان میں سے اب تک 997 جنات وفات پاچکے ہیں۔ جبکہ تین ابھی زندہ ہیں۔ سب سے پہلے میرے والد صاحب ہیں، جو (کابل) افغانستان میں رہتے ہیں۔ دوسرے صحابی جن مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہیں اور تیسرے صحابی جن مصر کے شہر قاہرہ میں مقیم ہیں۔ میں نے اپنے والد صحابی جن رضی اللہ عنہ کی زیارت کی تو مجھے تابعی ہونے کا رتبہ مل گیا اور آپ نے چونکہ مجھ سے ملاقات کی ہے، لہذا آپ کو تبع تابعی ہونے کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025