شہد کو گلے میں لٹکانے سے شفاء ملتی ہے یا گھول کر پلانے سے؟

سوال: مولانا صاحب! مانا کہ قرآن شفاء ہے، لیکن شہد بھی تو شفاء ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ اگر کسی بندے کے گلے میں شہد کا ڈبہ بھر کے لٹکا دیا جائے تو کیا اسے شفاء مل جائے گی؟ قرآن گلے میں لٹکانے کیلئے نازل ہوا تھا یا عمل کرنے کیلئے؟ عبقری میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں آیت کا تعویذ لکھ کر پہن لیا جائے تو شفاء مل جائے گی۔ پلیز کوئی ایسی بات کیا کریں جو عقل میں سما سکتی ہو (سائل: عبدالوہاب، دبئی)

جواب: جنابِ عالی! افسوس یہ ہے کہ لوگوں نے قرآن کو پڑھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ اگر آپ نے تھوڑا سا وقت قرآن کو سمجھنے پر لگایا ہوتا تو آپ کی عقل میں یہ بات سما جاتی کہ شہد ایک مادی چیز ہے اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ شہد کے بارے فرمایا: ”فِیْہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ“ کہ اس کے اندر لوگوں کیلئے شفاء ہے۔ شہد کی شفاء بھی صرف اسی وقت ملے گی جب یہ جسم کے اندر جائے گا۔ آنکھوں کیلئے بھی اسی وقت شفاء کا ذریعہ بنتا ہے جب آنکھوں کے اندر شہد کی سلائی لگائی جاتی ہے۔ کسی پھوڑے پھنسی کیلئے بھی شفاء اسی وقت بنتا ہے جب اس جگہ کے اوپر اچھی طرح شہد کا لیپ کر دیا جائے۔ لیکن دوسری طرف قرآن کے بارے ارشاد ہے:


یعنی قرآن سارے کا سارا شفاء اور رحمت ہے۔ اس آیت میں شہد کی طرح یہ نہیں فرمایا گیا کہ اس کے اندر شفاء ہے بلکہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن بذاتِ خود شفاء اور رحمت ہے جس پر عمل کرنے سے بھی شفاء ملے گی، جس کو پڑھنے سے بھی شفاء ملے گی، جس کو لکھنے سے بھی شفاء مل جاتی ہے، جس کو گھول کر پینے سے بھی شفاء حاصل ہو جاتی ہے اور جس کو صرف دیکھتے رہنے سے بھی شفاء اور رحمت کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حافظِ قرآن ہونے کے باوجود قرآنِ پاک کو دیکھ کر پڑھا کرتے تھے تاکہ اس کو دیکھنے والی شفاء اور رحمت سے بھی حصہ مل جائے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026