(مولانا خلیل الرحمن صاحب، جامعہ امدادیہ فیصل آباد)
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم بروز ہفتہ 20 جولائی 1963ء کو حج سے واپسی پر نہایت ہی پریشان کن آزمائش پیش آئی جس کا حل ہونا بظاہر ناممکن تھا اور اگر وہ حل نہ ہوتی تو آپ کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔! یہ پریشانی کیسے اعمال کے ذریعے حل ہوئی اور آپ نے ایک قرآن مقدس کی آیت پڑھی اور رب کریم نے آپ کیلئے غیبی وسیلہ بنا دیا خود شیخ الاسلام کی زبانی پڑھئیے اور تسبیح خانہ کو دعا دیجئے جو آج ہمارا بھولا ہوا سبق اعمال سے بچنے کے یقین کو اللہ کریم کی توفیق سے سارے عالم میں پھیلا رہا ہے۔۔۔!
مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ حجاز سے واپسی پر جہاز عدن میں رکا وہاں کچھ دیر ساحل پر گزارنے کے بعد حضرت شیخ احمد عراقیؒ کے مزار پر سلام عرض کرنے کے بعد پھر ٹیکسی پر اپنے احباب کے ساتھ کریٹر بازار روانہ ہوئے بازار چھوٹی چھوٹی پیچ در پیچ گلیوں میں پھیلا ہوا تھا، اپنا پاسپورٹ ٹکٹ اور ساری کرنسی ایک چھوٹے تھیلے میں رکھی ہوئی تھی جو کہ گلے میں لٹکائی ہوئی تھی، جب ہم نے جہاز پر واپس آنے کیلئے دوبارہ ٹیکسی بک کروائی اور منزل پر اتر کر کرایہ دینے لگے تو تھیلی پر ہاتھ ڈالا مگر تھیلی ہمارے پاس موجود نہیں تھیں، اور وہاں جہاز پر اعلان ہو چکا تھا کہ مسافروں کو واپس جہاز پر سوار کرنے والی سیڑھی رات بارہ بجے ہٹا لی جائے گی اور ہم اسی غریب الوطنی میں رہ جائیں گے اور ٹیکسی والا سر پر کھڑا اپنے پیسے مانگ رہا تھا۔ ٹیکسی میں جس قدر ممکن تھا تلاش مگر جب نہ ملا تو پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ بے بسی کا وہ عالم ابھی تک یاد آتا ہے تو جھرجھری آ جاتی ہے۔
اس بے بسی کے عالم میں انسان کا واحد سہارا اللہ تعالیٰ سے دعا کے سوا کچھ نہیں ہوتا، دعا مانگنے سے دل سے وہ دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ ہمیں اس آزمائش سے نکال دے اتنے میں ایک ٹیکسی آ کر رکی جس سے جہاز کے عملے کے کچھ ذمہ دار حضرات اترے ان میں سے کچھ ہمارے واقف کار بھی تھے ان کی مدد سے ٹیکسی والے کو کرایہ دیا اور جہاز تک پہنچنے کے کچھ پیسے ہم کو ادھار ملے اور ان ساتھیوں سے کہا کہ آپ جہاز کے کپتان سے عرض کریں کہ ہماری اس مشکل گھڑی میں کیا مدد کریں گے کپتان نے جہاز کی روانگی یعنی صبح دس بجے تک سیڑھی نہ ہٹانے کا وعدہ کیا، ہم یہاں سے دوبارہ اپنی تھیلی کی تلاش میں کریٹر بازار روانہ ہو گئے، راستے بھر سوچتے رہے کہ تھیلا کہاں رہ گیا ہے، دن بھر اتنی مختلف جگہوں پر گئے تھے کہ ان میں سے کسی کا انتخاب ممکن نہیں تھا، بس ”اناللہ وانا الیہ راجعون“ اور قرآن کریم کی اس آیت کا ورد کرتے رہے جس کے بارے میں بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ گمشدہ چیز کی تلاش کیلئے اس کی تلاوت بہت مفید ہوتی ہے آیت ہے:
یٰبُنَیَّ اِنَّہَاۤ اِنۡ تَکُ مِثۡقَالَ حَبَّۃٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ فَتَکُنۡ فِیۡ صَخۡرَۃٍ اَوۡ فِی السَّمٰوٰتِ اَوۡ فِی الۡاَرۡضِ یَاۡتِ بِہَا اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیۡفٌ خَبِیۡرٌ (لقمان:16)
اس آیت کا ورد کرتے ہوئے ہم کریٹر بازار میں پہنچے تو وہاں دکانیں بند ہو رہی تھیں، پیچ در پیچ گلیوں میں ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ ہم کہاں کہاں گئے تھے، جس بند ہوتی دکان کے پاس جاتے، وہ صاف انکار کر دیتا، یہاں تک کہ ایک ایک کر کے ساری دکانیں بند ہو گئیں اور سناٹا چھانے لگا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں دن بھر تھکن سے بدن چور تھا، اس لئے سوچا کہ رات یہاں گزار کر صبح کو تلاش پھر شروع کریں گے۔ وہاں ایک چھوٹا سا ہوٹل نظر آیا جب اس کا کرایہ معلوم کیا تو ہمارے پاس موجود پیسوں سے زیادہ تھا قریب کی مسجد میں گئے تو معلوم ہوا کہ وہاں عشاء کے بعد تالا لگ جاتا ہے بے بسی کے عالم میں اس آیت کا ورد کرتے ہوئے گلی کے سامنے سے گزرے تو وہاں چھوٹی سے دکان پر ٹمٹماتا ہوا بلب نظر آیا، دکاندار دن بھر کی کمائی گن رہا تھا، ایسے میں دو اجنبیوں کو دیکھ کر اس کا موڈ خراب ہو گیا اس نے دکان بند ہونے کا سخت لہجہ میں اعلان کیا ہم نے اسے عاجزی کے لہجہ میں ساری داستان سنائی اس نے سن کر کہا یہاں کوئی ایسا تھیلا نہیں ہے۔ اس آخری امید کے ٹوٹنے سے ہمارے چہروں پر کچھ ایسی بے چارگی چھا گئی کہ اس کو کچھ رحم آ گیا اس نے پوچھا وہ تھیلا کیسا تھا؟ ہم نے فوراً پوری تفصیل سنائی، سن کر وہ اوپر والی منزل پر گیا اور تھوری دیر میں واپس آیا اس کے ہاتھ میں تھیلا دیکھ کر ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہمیں نئی زندگی مل گئی ہو اور اس نے وہ تھیلا ہمارے حوالے کر دیا۔ اور ہم تھیلا لے کر سراپا شکر بن واپس ہوئے۔
محترم قارئین یہ کرامت سورہ لقمان کی آیت نمبر 16 کی تھی جو شیخ الاسلام اس کرب و بے چینی میں تلاوت کر رہے تھے اور آج یہی پیغام تسبیح خانہ کا بھی ہے کہ اعمال سے بننے کا یقین ہماری زندگی میں آجائے۔ اے بندگانِ خدا۔۔۔ تو ہو کسی بھی حال میں مولا سے لو لگائے جا۔
