مولانا کوثر نیازی صاحب ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا جنات سے متعلق ایک ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ایک زمانے میں خود میری بیوی پر جن مسلط ہو گیا۔ میں نے اس سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ وہ جن مسلمان ہے۔
میں نے کہا: کوئی ثبوت پیش کرو کہ تم واقعی ایک جن ہو۔ وہ کہنے لگا ، آپ کوئی فرمائش کر کے دیکھ لیں۔ میں نے عجیب فرمائش کی اور کہا: مجھے الائچی کے پودے سے ایک سبز ٹہنی لا کر دو، جس پہ سبز الا ئچی لگی ہوئی ہو۔ مجھے پتہ تھا کہ یہ درخت ہمارے یہاں نہیں ہوتے ، یہ کہاں سے لائے گا؟ لیکن کچھ ہی دیر بعد میری گود میں سبز شاخ پر لگی ہوئی سبز الائچی موجود تھی۔ اب میں نے اس کے مسلمان ہونے کا امتحان لینے کی غرض سے کہا: مجھے قصیدہ بردہ شریف کے کچھ اشعار سناو۔میری بیوی عربی نہیں جانتی تھی لیکن اس نے فرفر پورا قصیدہ سنانا شروع کر دیا
(بحوالہ کتاب اکابر دیو بند کے ایمان افروز واقعات صفحه 135 مؤلف: مولانا محمد انور بن اخر داره اشاعت اسلام، اردو بازار کراچی)
محترم قارئین ! درج بالا واقعے میں قابل غور بات یہ ہے کہ اگر حضرت مفتی اعظم پاکستان جیسی عظیم ہستی کی اہلیہ محترمہ اور حضرت شیخ الاسلام جیسے جید عالم دین کی والدہ مرحومہ پر جن مسلط ہو سکتا ہے تو پھر عام شخص کی کیا حیثیت ہے؟ اسی لیے شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب دامت برکاتہم العالية تسبیح خانے کے ہر درس اور ہر عبقری میگزین میں جنات سے بچنے کے مختلف وظائف اور اعمال عنایت فرمایا کرتے ہیں ، تاکہ اللہ پاک ہمیں ان اعمال کی برکت سے جناتی حادثات سے محفوظ رکھے۔
