شیخ الوظائف امام بخاری کے مزار پر کیوں گئے۔راز سے پردہ ہٹ گیا۔۔۔!

(مولانا وسیم اسلم صاحب، جامعہ اشرفیہ)

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو اللہ پاک نے جو علمی صلاحیت، باطنی بصیرت اور ہمہ گیر شخصیت کی صفات سے نوازا ہے وہ باصفات لوگوں سے پوشیدہ نہیں۔۔۔! آپ کے ہر عمل میں کوئی نہ کوئی حکمت کارفرما ہوتی ہے تاریخ کے جھروکوں سے اہم واقعہ پڑھیں اور شیخ الوظائف کے امام المحدثین کے مزارِ اقدس پر جانے کی حکمت کو سمجھ لیں۔۔۔!

علامہ امام ذہبیؒ (م 748ھ) نے امیر المومنین فی الحدیث اور سید المحدثین امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ (م 256ھ) کی قبر مبارک سے تبرک کا ایک واقعہ درج کیا ہے: شیخ ابوالفتح نصر بن حسن السکتی سمرقندیؒ نے بیان کیا کہ ایک بار سمرقند میں کچھ سالوں سے بارش نہ ہوئی تو لوگوں کو تشویش لاحق ہوئی پس انہوں نے کئی بار نمازِ استسقاء ادا کی لیکن بارش نہ ہوئی۔ اسی اثناء ان کے پاس ایک صالح شخص جو ”صلاح“ کے نام سے معروف تھا۔ سمرقند کے قاضی کے پاس گیا اور اس سے کہا: میں آپ سے اپنی ایک رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ قاضی نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا:

”میری رائے ہے کہ آپ کو اور آپ کے ساتھ تمام لوگوں کو امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کی قبر مبارک پر حاضری دینی چاہیے، ان کی قبر خرتنک میں واقع ہے، ہمیں قبر کے پاس جا کر بارش طلب کرنی چاہیے عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بارش سے سیراب کر دے۔ قاضی نے کہا: آپ کی رائے بہت اچھی ہے۔ پس قاضی اور اس کے ساتھ تمام لوگ وہاں جانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے قاضی نے لوگوں کے ساتھ مل کر بارش کے لیے دعا کی اور لوگ قبر کے پاس رونے لگے اور اللہ کے حضور صاحبِ قبر کی سفارش کرنے لگے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی وقت (اپنے صالح بندہ کی برکت کے سبب) وافر پانی کے ساتھ بادلوں کو بھیج دیا، تمام لوگ تقریباً سات دن تک خرتنک میں رکے رہے، ان میں سے کسی ایک میں بھی کثیر بارش کی وجہ سے سمرقند پہنچنے کی ہمت نہ تھی حالانکہ خرتنک اور سمرقند کے درمیان تین میل کا فاصلہ تھا۔

محترم قارئین! عقلمند لوگ اپنی روشن تاریخ اور تعلیماتِ اکابر کو فراموش نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ اسے اپنے سر کا تاج بنائے رکھتے ہیں۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026