شیخ الوظائف اپنے درس میں ہنساتے کیوں ہیں۔۔۔!

ہنسنے کی سنتیں۔۔۔ ٹینشن سے حفاظت کا ذریعہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم تسبیح خانہ لاہور میں جو درس بیان فرماتے ہیں اس کو بے پناہ قبولیت حاصل ہے۔ 216 ملکوں میں یہ درس براہِ راست سنا جاتا ہے آپ اپنے درس میں بعض اوقات کوئی ایسے چٹکلے یا پُرمزاح واقعات بیان فرماتے ہیں جس سے مجمع بہت محظوظ ہوتا ہے اور ہنستا ہے۔ یہ ہنسنا بھی تعلیماتِ نبوی ﷺ کا آئینہ دار اور صحابہ کرام و اولیائے عظام کا شعار ہے۔۔۔!

(1) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ سے زیادہ کسی اور شخص کو مسکراتے نہیں دیکھا (ترمذی)۔ (2) مورق العجلیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو نرمی، مسکراتا چہرہ اور خندہ پیشانی بہت پسند ہے (بیہقی)۔ (3) چہرے کی بشاشت اور حسنِ اخلاق مالداروں پر سبقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے (بیہقی)۔ (4) حضرت محمد ابن سیرینؒ دن میں خوب ہنستے آپ کی مجلس میں ہنسنے کی آوازیں اور رات کے وقت رونے کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ (5) خوشی کے وقت یہ دعا پڑھیں: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ وَ جَلَالِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ۔ (6) کسی کو ہنستا ہوا دیکھئے تو یہ دعا دے: اَضْحَکَ اللہُ سِنَّکَ۔ (بخاری ومسلم)

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026