شیخ الوظائف اچھے نام رکھنے کا کیوں فرماتے ہیں؟ وجہ جان لیں!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم اکثر اپنے دروس میں یہ بات فرماتے ہیں کہ اپنے بچوں کا نام کچھ سوچ سمجھ کر منتخب کیا کریں کیوں کہ ناموں کے زندگی پر اثرات ہوتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی سنت ہے کہ آپ برے ناموں کو تبدیل کر دیا کرتے تھے:

عن عائشۃ: اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُغَیِّرُ الِاسْمَ الْقَبِیْحَ۔

(ترمذی: 111/2، ابواب الآداب، ماجاء فی تغییر الاسماء)

حضرت عبدالحمید ابن جبیرؒ کہتے کہ (ایک دن) میں حضرت سعید بن المسیبؒ کی خدمت میں حاضر تھا کہ انہوں نے مجھے سے یہ حدیث بیان کی کہ میرے دادا جن کا نام ’’حزن‘‘ تھا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا میرا نام ’’حزن‘‘ (جس کے معنی ہیں سخت اور دشوار گزار زمین) آنحضرت ﷺ نے فرمایا: (حزن کوئی اچھا نام نہیں ہے) بلکہ میں تمہارا نام سہل (اس کے معنی ہیں ملائم اور ہموار زمین، جہاں آدمی کو آرام ملے) رکھتا ہوں۔ میرے دادا نے کہا کہ میرے باپ نے میرا جو نام رکھا ہے اب میں اس کو بدل نہیں سکتا۔ حضرت سعیدؒ نے فرمایا: اس کے بعد سے ہمارے خاندان میں ہمیشہ سختی رہی۔

میں ہے کہ ’’جیسا نام ہوگا ویسا مسمیٰ ہوگا، عاقل نام ہوگا اور اس کو بار بار اس نام سے پکارا جائے گا تو اس میں عقل مندی پیدا ہوگی اور اگر بدھو نام رکھا جائے گا اور اس کو بار بار اس نام سے پکارا جائے گا، تو وہ ناسمجھ بن جائے گا۔‘‘ محترم قارئین تسبیح خانہ صرف اور صرف اسی سودے کا خریدار ہے جو بارگاہِ نبوت ﷺ سے باراستہ اکابرینِ امت اور اہلِ اللہ ہم تک پہنچے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026