علامہ عینیؒ نے شرح بخاری میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ یہ دعا پڑھے،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَہُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ لِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَہُ الْعَظَمَۃُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ھُوَالْمَلِکُ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ۔
اس کے بعد یہ دعا کرے: ’’یا اللہ اس کا ثواب میرے والدین کو پہنچا دے‘‘ تو اس نے والدین کا حق ادا کر دیا۔ (فضائلِ صدقات)
اہلِ قبور کو خوش کر دینے والے اعمال
ایصالِ ثواب کرنے سے صاحبِ قبر کو ایصالِ ثواب کرنے والے سے انسیت اور دلی لگاؤ ہو جاتا ہے۔
(1) جو شخص قبرستان میں 30 مرتبہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھے اور ان کو ایصالِ ثواب کرے تو صاحبِ مزار یا قبر والے کو 22 لاکھ اسی ہزار نیکیاں ملتی ہیں۔ 22 لاکھ اسی ہزار گناہ معاف ہوتے ہیں 22 لاکھ اسی ہزار درجات بلند ہوتے ہیں۔ (فتح القدیر جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 19) اور صاحبِ قبر کی بخشش کر دی جاتی ہے۔ (تفسیر کبیر)
(2) اگر قبرستان میں کھڑے ہو کر صرف چند منٹوں میں 30 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھی جائے تو دس قرآن مجید پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ اہل قبور کی بخشش کی جاتی ہے ان پر رحمت و برکاتِ عافیتوں کی بارش ہوتی ہے ان کے درجات بلند ہوتے ہیں اہل قبور اس شخص سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ 15300 نیکیاں ملتی ہیں۔
(3) جو شخص مزار یا قبر پر کھڑے ہو کر دس مرتبہ آیت الکرسی پڑھے اس قبر یا مزار پر 40 ہزار رحمتیں اور 40 ہزار عذابِ قبر ہٹا دیئے جاتے ہیں۔ (مکتوباتِ صدی، شیخ شرف الدین یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ)
(4) جَزَی اللہُ مُحَمَّدًا عَنَّا مَا ھُوَ اَھْلُہٗ۔ (کنز العمال) اگر 30 مرتبہ پڑھا جائے تو 2100 فرشتے 2100 دن تک اس کا ثواب لکھیں تو نہ لکھ سکیں۔
(5) کم از کم سو مرتبہ کلمہ طیبہ (مکمل) ایصالِ ثواب کریں۔ صاحبِ کشف اور اہل باطن فرماتے ہیں کہ کلمہ طیبہ سے بڑھ کر بخشش (بلندی درجات) کیلئے اور کوئی دوسرا عمل نہیں دیکھا گیا۔
