شیخ الوظائف بار بار قبرستان جا کر ایصال ثواب کا حکم کیوں فرماتے ہیں؟ ۔۔۔ حقیقت جانیے!

( مولانامحمد عمر، احیاء العلوم، بھکر )

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کوشش شروع دن سے یہی رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح دیکھی انسانیت کی داد رسی ہو جائے چاہے وہ انسان و جنات زندہ ہوں یا مردہ ۔۔۔! آپ اپنے ہفتہ وار درس میں بارہا اس بات کی تاکید فرماتے ہیں کہ آپ حضرات قبرستان ضرور جایا کریں ۔ آج میں اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے اس راز کی پردہ کشائی کرتا ہوں۔۔۔! حضرت ابوبکر شبلی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک عورت آئی اور عرض کیا کہ: ” حضور! میری بیٹی کو انتقال کیے ہوئے چند ماہ ہو چکے ہیں، میں چاہتی ہوں کہ اس کو خواب میں دیکھوں“ حضرت شبلی ” نے دعا کی اور فرمایا کہ جا تو فلاں روز اس کو خواب میں دیکھے گی ، کچھ دنوں کے بعد ایک مرتبہ وہی عورت روتی ہوئی آئی اور کہنے لگی کہ "حضور! میں نے اپنی بیٹی کو خواب میں دیکھا ہے لیکن وہ سخت عذاب میں مبتلا ہے آپ نے فرمایا کہ تو اس کیلئے دعائے مغفرت کرتی رہا کر، امید ہے کہ اللہ اس کو بخش دے گا۔ ایک عرصہ کے بعد حضرت شبلی ” نے خود خواب میں دیکھا کہ ایک نہایت حسین و جمیل عورت جنت میں تخت پر بیٹھی ہوئی ہے۔ اس نے حضرت شبلی ” سے پوچھا کہ آپ مجھے جانتے ہیں؟ حضرت شبلی” ینے انکار کیا، عورت نے کہا کہ میں اسی بڑھیا کی بیٹی ہوں جو آپ کے پاس دعا کیلئے آئی تھی ۔ حضرت شبلی ” نے اس سے پوچھا کہ تیری نجات کس طرح ہوئی ؟ عورت بولی کہ اعمال تو واقعی میرے عذاب ہی کے قابل تھے مگر ایک شخص نے قبرستان سے گزرتے ہوئے ایک بار درود شریف کا ثواب تمام مردوں کو بخشا، جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ اِرْفَعُوا الْعَذَابَ عَنْهُمْ چنانچہ اے شبلی ” ! اس قبرستان میں 550 مُردے عذاب میں مبتلا تھے وہ سب کے اس درود کے ثواب کی وجہ سے بخش دیئے گئے چنانچہ میں بھی انہی میں شریک ہوں۔

بِبَرْكَةِ ثَوَابِ صَلوةِ هَذَا الرَّجُل“

محترم قارئین ! دیکھا آپ نے ملے ناں’اکابر پر اعتماد کے فائدے۔۔۔!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025