شیخ الوظائف اپنے دروس میں ایک پیکیج بیان فرماتے ہیں کہ بوڑھے حضرات ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کا احترام کریں اور انھیں اپنے لیے دعا کا عرض کریں آج آپ ’’اکابر ؒپر اعتماد‘‘ کے دوستوں کیلئے اس کی وجہ عرض کرتے ہیں:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ مومن جب 40سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب آسان فرما دیتے ہیں اور جب 60 سال کی عمر کو پہنچے تو اس کو اپنی طرف رجوع و انابت نصیب فرما دیتے ہیں اور 70سال کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو قائم فرما دیتے ہیں اور اس کی برائی کو مٹا دیتے ہیں اور جب 90سال کی عمر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتے ہیں اور اس کو اپنے اہل بیتؓ کے متعلق شفاعت کرنے کا حق دیدتے ہیں اور آسمان میں اس کے نام کے ساتھ لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ اسیر اللہ فی الارض ہے یعنی زمین میں اللہ کی طرف سے قید ی ہے ۔
( تفسیر ابن کثیر عن ابی یعلیٰ و مسند احمد وغیرہ بحوالہ ماہنامہ القاسم زیر سرپرستی: مولانا عبد القیوم حقانی صاحب صفحہ نمبر 9نومبر 2020)
آج کے دور میں بوڑھے حضرات کو کس نگاہ سے اور بے توجہی کےساتھ دیکھا جارہا ہے ہر شخص بخوبی جانتا ہے۔
تسبیح خانہ کی کوشش یہی ہے کہ بڑوں کااحترام ہماری زندگی میں آجائے ۔۔۔!
