شیخ الوظائف ذکر پر زور کیوں دیتے ہیں راز سے پردہ اٹھ گیا۔۔۔!

( مولانا قاری محمد عطاء اللہ ، فاضل جامعہ اشرفیہ )

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اکثر دروس میں ذکر اور خانقاہوں کے نظام پر زور دیا جاتا ہے آج میں اس راز سے اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پردہ اٹھانے جارہا ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرب قیامت کا دور ہے آزمائشیں بڑھتی جا رہی ہیں فتنے موتیوں کی ٹوٹی مالا کی طرح بکھر تے جار ہے ہیں اس وقت میں سب سے زیادہ ضرورت خانقاہوں اور ذکر اللہ کی ہے۔۔۔ ! یہ حال کا امر بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔ حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب فرماتے ہیں شیخ الحدیث مولا نا محمد ذکریا کے آخری ایام میں آپ کو ذکر سے بہت شغف ہو گیا تھا ، جس طرح حضرت گنگوہی نے تدریس ، تصنیف و تالیف سب مراحل طے کرنے کے بعد ذکر پر بہت زور دینے لگے تھے ، اسی طرح ہمارے شیخ الحدیث کا بھی آخری حال ذکر تھا حضرت چاہتے تھے کہ ذکر کی نئی خانقا ہیں آباد ہو جائیں کیونکہ پچھلی خانقاہیں ختم ہو چکی ہیں ۔۔۔! اس کی وجہ میری ناقص اور جاہلانہ رائے میں یہ ہے کہ آج کل قیامت کا دور ہے ، دجال کا دور ہے اب صرف ذکر جو روح عالم ہے اس کی وجہ سے نجات ہو سکتی ہے اور اب صرف دل والا اسلام ہی چلے گا ، دماغ والا اسلام نہیں چلے گا۔ ( بحوالہ سوانح مفتی ولی حسن ٹونکی۔ مصنف : مولانا محمد حسین صدیقی صاحب، ناشر: زمزم پبلشرز ) حضرت مولانا حافظ بارک اللہ صاحب آخر عمر میں زیادہ تر وقت مسجد میں گزارتے اور ذکر واذکار میں مشغول رہتے

( تذکر ہ محی الدین لکھوی ، ص 84 مصنف : مولانا اسحاق بھٹی ” ، ناشر: محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور )

محترم قارئین ! ہمارے اکا بر وقت کی نزاکتوں کو دیکھ رہے تھے اور آج اللہ کے فضل سے عبقری اس ڈوبتی کشتی کو سہارا ہی نہیں دے رہا بلکہ پارلگانے کی کوشش میں لگا ہے اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025