شیخ الوظائف دامت برکاتہم اللہ کے فضل و کرم سے سارے عالم میں سنتوں اور مستحبات کو زندہ کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں اور خاص طور پر وہ سنتیں جو آج متروک ہوتی جا رہی ہیں ان ہی سنتوں میں سے ایک سنت انگوٹھی پہننا بھی ہے جس کے بارے میں مدینہ منورہ کے نامور محدث، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنیؒ کے شاگردِ رشید، جامعہ مظاہر العلوم کے ہونہار فاضل حضرت مولانا حبیب اللہ قربان مظاہریؒ کے فرامین بزبان مولانا سید سلیمان بنوری حفظہ اللہ (جو کہ مولانا کی مجالس میں بارہا شریک ہوئے) پڑھیے اور شیخ الوظائف برکاتہم کے حوصلے کو داد دیجئے جو کہ ہر خاص و عام کی محفل میں سنتیں زندہ کرنا اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں ۔۔۔! فاعتبروا یا اولی الابصار
حضرت مولانا حبیب اللہ قربان مظاہریؒ نے انگوٹھی کے متعلق فرمایا ”یہ آج کی سنتِ متروکہ بن گئی ہے، علماء بھی نہیں پہنتے، حالانکہ بخاری شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کی چھ انگوٹھیوں کا ذکر ہے، اس سلسلے میں امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا مستقل رسالہ ’جزء الخاتم‘ بھی ہے اور میرے مطالعہ اور یاد کے مطابق (ہو سکتا ہے کہ اس سے زیادہ ہوں) حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی بارہ انگوٹھیاں تھیں۔ مہر کے لیے صرف ایک انگوٹھی تھی، اس کے علاوہ بھی گیارہ تھیں، جبکہ بخاری شریف میں ہی اس کے علاوہ پانچ انگوٹھیوں کا ذکر ہے۔ ایک روایت میں ہے ”فَصَّهُ حَبَشِيٌّ“ (سنن ابو داؤد: 4216) یعنی کالا پتھر تھا، جس کو سلطانی پتھر کہتے ہیں اور بادشاہ و امراء پہنتے ہیں، موجودہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور حرم کے ایک امام بھی پہنتے ہیں۔ شراح نے یہاں ”حبشی پتھر“ لکھا ہے، حالانکہ ’حبش‘ نامی جگہ ہے، جو ’یمن‘ میں ہے، جہاں سے پتھر نکلتے ہیں، یہ وہ ’حبشہ‘ نہیں ہے۔ یہ بات مجھے پڑھنے کے دوران سمجھ نہیں آئی تھی، بعد میں سمجھ آئی۔
(ماہنامہ بینات کراچی، ج، شمار 8، 9۔ ص 100، بانی: محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، شعبان، رمضان 1441ھ اپریل، مئی 2020ء، جامعۃ العلوم الاسلامیہ، کراچی)
عبقری کی کوئی چیز بھی خود ساختہ نہیں، ضرورت قرآن و حدیث کو پڑھنے اور تعلیماتِ اکابر کو سمجھنے کی ہے۔
یاد رکھیں! شیخ الوظائف عملیات و تعویذات بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔۔۔!
