مرشد اعظم حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب حفظہ اللہ لوگوں کو اتنے وظائف کیوں بتاتے ہیں؟ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ان اعمال کے ذریعے اللہ کے قریب ہو جائیں اور یہ ترتیب بزرگانِ دین کی زندگیوں سے ملتی ہے۔
حضرت مولانا اللہ یار خان صاحب رحمہ اللہ کے مکتوبات میں لکھا ہے کہ یاد رکھنا وقت سخت نازک ہے، مخلوق خدا سے دور ہو چکی ہے اور رسول خدا ﷺ سے روحانی تعلق توڑ چکی ہے، اخروی مؤاخذہ کی قائل ہی نہیں رہی، حرام حلال کی قائل نہیں ہے، بیٹا ہمیشہ سنت الہی اس طرح جاری چلی آتی ہے کہ جب سخت بے دینی دنیا میں پھیل جاتی تو اس وقت اللہ تعالیٰ جماعتِ انبیاء کو مبعوث فرماتے تھے، سلسلہ نبوت ختم ہوا کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آ سکتا سوائے سابق نبی عیسیٰ علیہ السلام کے اس واسطے اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً صوفیہ عارفین، اولیاء اللہ کی جماعت سے کسی نہ کسی کو منتخب فرماتے ہیں، مخلوق جو خدا سے دور ہو گئی اس کو شیطان کے چنگل سے نجات دلا کر خدا رسیدہ بنائیں، عزیزم! میں پیری مریدی کے لئے نہیں پیدا ہوا بلکہ میری ڈیوٹی یہی ہے جو کام کر رہا ہوں، آپ بھی اس محبوب رب العالمین کی جماعت میں داخل ہو کر اس کے فرد بن گئے۔ آپ کا بھی فرض اور ہر رفیق حلقہ کا فرض ہے کہ خدا کے بندوں کو تلقین کریں ذکر الہی میں مشغول بنا دیں، نمازی بنا دیں، متبع رسول اکرم ﷺ بن جائیں، آپ کو اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے، آگے چلو گے تو رنگ دیکھو گے، آپ جس طرح ظاہری فوج کے ملازم ہیں اسی طرح کوشش کریں کہ باطنی حکومت کے بھی فرد بن جائیں۔
بس حضرت حکیم طارق محمود چغتائی صاحب لوگوں کا تعلق اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے جوڑ رہے ہیں جو ایک عظیم کام ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مرشد کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
