(قاری محمود الرحمن، سرگودھوی، فاضل: جامعہ صدیقیہ)
شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کوشش یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ قرآن و سنت سے جڑ جائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دکھوں کو بانٹنے والے بن جائیں چاہے وہ زندہ ہوں یا دنیا سے جانے والے یعنی مردہ اسی لیے آپ کم از کم جمعہ کے دن اپنے والدین کی قبروں پر جانے کا فرماتے ہیں۔ آئیے! اس فرمان کی حقیقت علمی فتاویٰ جات کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔
سوال: جس شخص نے جمعہ کو اپنے والدین میں سے دونوں یا کسی ایک کی قبر کی زیارت کی تو اس کی بخشش کر دی جاتی ہے، اور اس کا نام نیکوکاروں میں لکھ دیا جاتا ہے؟ براہِ کرم مہربانی کر کے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں۔ کیا اس پر ایمان رکھنا کیسا ہے؟
جواب نمبر: 56927: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ جی ہاں (شیخ ابوبکر احمد بن حسین بن علیؓ جو کہ امام بیہقی سے مشہور ہیں) کی سنن بیہقی میں اس طرح کے مضمون کی حدیث آئی ہے، اس پر ایمان رکھنا اور اس پر عمل کرنا درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند۔۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص جمعہ کے روز اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے اور اس کے پاس سورہ یٰسین پڑھے بخش دیا جائے۔ (الکامل لابن عدی، 6 / 260) تابعی بزرگ حضرت محمد بن نعمان سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کی قبر کی ہر جمعہ میں زیارت کیا کرے تو اس کی بخشش کی جائے گی اور وہ بھلائی کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔
(شعب الایمان، باب فی بر الوالدین، فصل فی حفظ حق الوالدین بعد موتہما، 6 / 201، حدیث 7901)
حضرت مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی صاحبؒ نے فرمایا کہ ہر جمعہ کے دن والدین کی قبور کی زیارت کیا کرے، اگر وہاں حاضری میسر نہ ہو (دوسرے ملک میں ہونے کی وجہ سے) تو ہر جمعہ کو ان کے لیے ایصالِ ثواب کیا کرے۔ علماء فرماتے ہیں کہ والدین کی وفات کے بعد تین کام کرو: ایک یہ کہ ہر جمعہ کو ان کی قبروں کی زیارت کرو، ان کے لیے دعا اور ایصالِ ثواب کرو۔ دوسرے یہ کہ ان کے قرض ادا کرو، ان کے وعدے پورے کرو۔ تیسرے یہ کہ والد کے دوستوں اور والدہ کی سہیلیوں کو اپنا باپ و ماں سمجھو اور ان کی خدمت کرو۔
(مرآۃ المناجیح، قبروں کی زیارت، 2 / 526)
اب بتائیے شیخ الوظائف دامت برکاتہم ساری دنیا کو کن راہوں پر لگا رہے ہیں۔۔۔!
