شیخ الوظائف کو مشرک کہنے والے کیا امام شافعیؒ کو بھی مشرک کہیں گے

(مولانا عبدالباری، فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی)

اللہ کریم کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ سارے میں عالمِ توحید، رسالت، اور اولیائے کرام کا ادب پھیلانے کا ذریعہ ہے اس کی ہر بات کے پیچھے اکابرین کے مستند حوالہ جات موجود ہیں شیخ الوظائف کا مزارات پر حاضری دینا اکابر کی تعلیمات ہی کی پیروی میں ہے۔

امام شمس الدین سخاویؒ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حالاتِ زندگی میں لکھتے ہیں: ’’اُن کی قبر مبارک پر قبہ (گنبد) بنایا گیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ کی زیارت کی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے برکت حاصل کی جاتی ہے۔‘‘ (بحوالہ: شمس الدین سخاوی، التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشریفہ، 1 / 307)

(2) امام شافعیؒ کا امام اعظمؒ کے مزار پر حاضری کا معمول

خطیب بغدادی (463ھ) اور بہت سے ائمہ کی تحقیق کے مطابق امام شافعیؒ جب بغداد میں ہوتے تو حصولِ برکت کی غرض سے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کی زیارت کرتے۔ خطیب بغدادی نقل کرتے ہیں کہ امام شافعیؒ، امام ابوحنیفہ (متوفی 150ھ) کے مزار کی برکات کے بارے میں خود اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’میں امام ابوحنیفہ کی ذات سے برکت حاصل کرتا ہوں اور روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لیے آتا ہوں۔ جب مجھے کوئی ضرورت اور مشکل پیش آتی ہے تو دو رکعت نماز پڑھ کر ان کی قبر پر آتا ہوں اور اس کے پاس (کھڑے ہو کر) حاجت برآری کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔ پس میں وہاں سے نہیں ہٹتا یہاں تک کہ (قبر کی برکت کے سبب) میری حاجت پوری ہو چکی ہوتی ہے۔‘‘

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اکابر کی زندگی کو پڑھیں، سمجھیں اور پھر عمل کریں یہی تسبیح خانہ کا مشن ہے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026