شیخ الوظائف کی مونچھیں تعلیمات صحابہ و اہل بیت کی روشنی میں

امام مالک کی مونچھیں:اسحاق بن عیسیٰ الطباع (ثقہ راوی) سے روایت ہے کہ میں نے (امام) مالک بن انس (رحمہ اللہ) کو دیکھا، ان کی مونچھیں بھر پور اور زیادہ تھیں، ان کی دونوں مونچھوں کے باریک سرے تھے، پھر میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: مجھے زید بن اسلم نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے حدیث بیان کی، انھوں نے عبد اللہ بن زبیر (رضی اللہ عنہ) سے کہ کوئی اہم معاملہ ہوتا تو عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے اور منہ سے پھونکیں مارتے تھے، پس انھوں نے مجھے حدیث کے ساتھ فتویٰ دیا۔

اہل علم کے نزدیک مونچھوں کی اہمیت:علامہ بدر الدین ابو محمد محمودبن العینی، عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:مونچھیں کاٹنا سنت ہے قص الشارب کا لفظ قصصت الشعر سے ماخوذ ہے میں نے بال کٹوائے طیر مقصوص الجناح (جس پرندے کے پر کٹے ہوں)۔ اہل مدینہ میں سے بہت سے بزرگوں کے نزدیک مونچھیں منڈوانے سے کٹوانا بہتر ہے۔ مثلاً سالم، سعید بن مسیب، عروہ بن الزبیر، جعفر بن الزبیر، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، ابوبکر بن عبد الرحمن بن الحارث، ان سب کے نزدیک مونچھیں کاٹنا مستحب ہے مونڈھنے کی نسبت یہی قول ہے۔ حمید بن ہلال، حسن بصری، محمد بن سیرین، عطاء بن ابی رباح اورامام مالک کا بھی یہی مذہب ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اﷲ نے فرمایا کثیر تعداد میں سلف نے مونچھیں مونڈھنے سے منع فرمایا ہے یہی امام مالک کا مذہب ہے ان کے نزدیک یہ مثلہ ہے۔ امام مالک مونچھیں مونڈھنے والے کو سزا کا حکم دیتے تھے اور ہونٹ سے اوپر بال کاٹنے کو مکروہ سمجھتے تھے مستحب یہ ہے کہ اوپر سے اتنی مونچھیں کاٹی جائیں جس سے ہونٹ نظر آئیں۔ علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح البخاری میں لکھتے ہیں:امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :مونچھیں کاٹنے کی مذہب مختار میں حد یہ ہے کہ ہونٹ ظاہر ہو جائیں، کلی طور پر مونڈھنا نہیں اور جن روایات میں احفوا الشوارب مونچھیں کاٹو، اس کا مطلب ہے وہ بال کاٹو جو ہونٹوں پر لمبے لمبے موجود ہیں۔

خواب میں صحابہ کرامؓکی زیارت باسعادت اکابر ؓ پر اعتماد اور ان سے عشق ہی کا نتیجہ ہے۔

یادرکھیں۔۔۔!شیخ الوظائف عملیات ووظائف بناتے یاگھڑتے نہیں بلکہ اکا بر کے بتائے ہوئے بتاتے ہیں۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025