شیخ الوظائف کے نظر بد پر بیانات ۔ تعلیمات قرآن وسنت کی روشنی میں

( مولانا فمیل شمسی صاحب، فاضل جامعہ دارالتقوی، لاہور )

اطاہر پر اعتماد شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے بہت سے دروس میں نظر بد کی حقیقت اور اس سے بچنے کی تعلیمات کا ذکر ہوتا ہے اور ابھی کچھ عرصے سے مستقل نظر بد پر آپ کے بیانات ہورہے ہیں۔ میں اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں کچھ تفصیل کے ساتھ نظر بد کی حقیقت عرض کرتا ہوں جس سے آپ یہ بات با آسانی سمجھ سکیں گے واقعی شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے ہمارے مرض کی تشخیص بالکل صحیح کی ہے۔ نظر بد یا نظر لگنا ایک قدیم تصور ہے جو دنیا کی مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔ اسلام کے صدر اول میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے عرب کے ان لوگوں کی خدمات لینے کا ارادہ کیا جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے ہیں ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔

(1) آپ سلیشیا کی تم نے ارشاد فرمایا: نظر کا لگ جانا حقیقت ہے۔

(2) آپ سنی لیا کہ ہم نے ارشاد فرمایا: نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے نظر کے علاج کے لیے غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کر لو۔

(3) آپ مٹی کا یہی تم نے تین چیزوں کیلئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی : نظر بد، بچھو وغیرہ کے کاٹے پر، پھوڑے پھنسی کے لئے۔

(4) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ان کی ہم نے حکم فرمایا یا حکم دیا کہ نظر بد لگنے کا دم کیا کرو۔

(5) آپ سی ٹی ایم نے فرمایا: نظر بد سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔

(6) حضرت اسماء بنت عمیں نے آپ سنی یا پیام سے گزارش کی کہ بنو جعفر کو نظر بد لگ جاتی ہے تو کیا وہ ان پر دم کر سکتی ہیں؟ آپ ملا لیا ہے نے فرمایا کہ ہاں اگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظر بد ہے

(7) بے شک نظر بد انسان پر اثر انداز ہوتی ہے حتی کہ اگر وہ ایک اونچی جگہ پر ہو تو نظر بد کی وجہ سے نیچے بھی گر سکتا ہے۔

(8) نظر بد انسان کو اونچے پہاڑ سے نیچے گرا دیتی ہے۔

(9) نظر بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے

(10) آپ سنی بیا اینم نے فرمایا: اللہ کی قضا و تقدیر کے بعد سب سے زیادہ نظر بد کی وجہ سے میری امت میں اموات ہوں گی۔ (

محترم قارئین ! درج بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ الوظائف کا نظر بد کو اتنی اہمیت کے ساتھ بیان کرنا کوئی تو ہم پرستی نہیں بلکہ سچی حقیقت ہے جس پر متر آن حدیث کے سینکڑوں دلائل موجود ہیں ۔۔۔!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025