(مولانا فضیل شمسی صاحب، فاضل جامعہ دارالتقویٰ، لاہور)
شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے بہت سے دروس میں نظرِ بد کی حقیقت اور اس سے بچنے کی تعلیمات کا ذکر ہوتا ہے اور ابھی کچھ عرصے سے مستقل نظرِ بد پر آپ کے بیانات ہو رہے ہیں۔ میں ’اکابر پر اعتماد‘ کے دوستوں کی خدمت میں کچھ تفصیل کے ساتھ نظرِ بد کی حقیقت عرض کرتا ہوں جس سے آپ یہ بات باآسانی سمجھ سکیں گے واقعی شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے ہمارے مرض کی تشخیص بالکل صحیح کی ہے۔
نظرِ بد یا نظر لگنا ایک قدیم تصور ہے جو دنیا کی مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔ اسلام کے صدرِ اوّل میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے عرب کے ان لوگوں کی خدمات لینے کا ارادہ کیا جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے ہیں ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔
(1) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نظر کا لگ جانا حقیقت ہے۔
(بحوالہ بخاری، الصحیح، رقم: 5408۔ مسلم، الصحیح، رقم: 2187۔ احمد بن حنبل، المسند رقم: 8228)
(2) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے (نظر کے علاج کے لیے) غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کرلو۔
(مسلم، الصحیح، رقم: 2188۔ ابن حبان، الصحیح، رقم: 6107)
(3) آپ ﷺ نے تین چیزوں کیلئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی: نظرِ بد، بچھو وغیرہ کے کاٹے پر، پھوڑے پھنسی کے لئے۔
(مسلم، الصحیح، رقم: 2196۔ احمد بن حنبل، المسند رقم: 12194۔ ترمذی، السنن، رقم: 2056)
(4) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا یا حکم دیا کہ نظرِ بد لگنے کا دم کیا کرو۔
(بخاری، الصحیح، رقم: 5406۔ مسلم، الصحیح، رقم: 2195)
(5) آپ ﷺ نے فرمایا: نظرِ بد سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔
(ابن ماجہ رقم: 3508۔ صحیح الجامع رقم: 938)
(6) حضرت اسماء بنتِ عمیسؓ نے آپ ﷺ سے گزارش کی کہ بنوجعفر کو نظرِ بد لگ جاتی ہے تو کیا وہ ان پر دم کرسکتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظرِ بد ہے
(مسند احمد ج 2 ص 438)
(7) بے شک نظرِ بد انسان پر اثر انداز ہوتی ہے حتیٰ کہ اگر وہ ایک اُونچی جگہ پر ہو تو نظرِ بد کی وجہ سے نیچے بھی گر سکتا ہے۔
(صحیح الجامع رقم: 1681)
(8) نظرِ بد انسان کو اُونچے پہاڑ سے نیچے گرا دیتی ہے۔
(الصحیحہ 1249)
(9) نظرِ بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے
(صحیح الجامع 4144)
(10) آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قضا و تقدیر کے بعد سب سے زیادہ نظرِ بد کی وجہ سے میری امت میں اموات ہوں گی۔
(صحیح الجامع 1206)
محترم قارئین! درج بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ الوظائف کا نظرِ بد کو اتنی اہمیت کے ساتھ بیان کرنا کوئی توہم پرستی نہیں بلکہ سچی حقیقت ہے جس پر قرآن حدیث کے سینکڑوں دلائل موجود ہیں۔۔۔!
