کچھ عرصہ پہلے تسبیح خانے میں صدقات و خیرات کے ذریعے روحانی و جسمانی امراض سے بچنے کا ایک عمل بتایا گیا کہ اپنی روزانہ یا ماہانہ آمدنی کا اڑھائی فیصد حصہ الگ نکال لیا کریں۔ یا ایسا کریں کہ ایک ڈبہ علیحدہ رکھ لیں اور روزانہ چھوٹا یا بڑا نوٹ اپنے پورے جسم پر پھیر کر اس ڈبے میں ڈالتے جائیں۔ جب کافی رقم جمع ہو جائے تو کسی ایسے مستحق تنگ دست رشتہ دار یا اجنبی کو دے دیں، جو مانگنے والا نہ ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر کے ہاں اس عمل کی کیا حیثیت ہے؟ مولانا حمید الرحمان صاحب (کراچی) لکھتے ہیں کہ گزشتہ سال اکتوبر (2017ء) میں بندہ حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے دفتر میں بغرض ملاقات موجود تھا۔ اس دوران ایک صاحب آکر پوچھنے لگے کہ صدقہ کرنے کی بہتر صورت کیا ہے؟ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ بزرگوں کا طریقہ یہ رہا ہے کہ اپنی آمدنی میں سے کچھ حصہ مخصوص کر دیا جائے مثلاً ایک فیصد یا دس فیصد، یا جتنی بھی استطاعت ہو، اس حساب سے متعین کر لیا جائے اور پھر وہ پیسہ صدقے کے طور پر دے دیا جائے۔
اسی طرح "ماہنامہ البلاغ مفتی اعظم نمبر” میں بھی اکابر کی مثالیں ملتی ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم اپنے تاثراتی مضمون "میرے والد میرے شیخ” میں رقمطراز ہیں: حضرت والد صاحب (مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ) کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا بہت شوق تھا اور اس کیلئے جو طریقہ کار اپنایا ہوا تھا وہ بڑا سبق آموز اور لائقِ تقلید ہے۔ آپ کا معمول یہ تھا کہ زکوٰۃ ادا کرنے کے علاوہ آپ کے پاس جب بھی کوئی رقم آتی تو اس کا ایک متعین حصہ فوراً علیحدہ فرما لیتے اور طے کیا ہوا تھا کہ آمدنی اگر محنت سے حاصل ہوئی ہے تو بیسواں حصہ (پانچ فیصد) اور اگر کسی محنت کے بغیر حاصل ہوئی ہے (مثلاً انعام، ہدیہ، تحفہ وغیرہ) تو اس کا دسواں حصہ فوراً علیحدہ نکال لیا جائے۔ صندوقچی میں ایک تھیلا آپ کے پاس ہمیشہ رہتا تھا، جس پر "صدقہ و مبرات” لکھا رہتا تھا۔ تنگ دستی کا زمانہ ہو یا فراخی کا، آمدنی کا مذکورہ حصہ آپ فوراً اس تھیلے میں رکھ دیتے تھے، اور جب تک یہ حصہ "صدقہ و مبرات” کے تھیلے میں نہ چلا جاتا، اس وقت تک اس آمدنی کو استعمال نہیں فرماتے تھے۔ اگر دس روپے بھی کہیں سے آتے تو فوراً اس کے چھوٹے نوٹ بدلوا کر ایک روپیہ اس تھیلے میں رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے
(بحوالہ: ماہنامہ البلاغ مفتی اعظم نمبر، جلد ۱، صفحہ 459)
اسی طرح البلاغ مفتی اعظم نمبر کی دوسری جلد میں حضرت مفتی عبدالحکیم صاحب رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا تھانوی اپنی کمائی کا ایک تہائی حصہ خیرات کر دیا کرتے تھے اور مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب اپنی کمائی کا ایک خمس (یعنی پانچواں حصہ) خیرات کرتے تھے۔ حضرت مولانا سید اصغر حسین صاحب کو دیکھا کہ ان کے پاس تین چپاتیاں آتی تھیں، ان میں ڈیڑھ چپاتی خود تناول فرماتے، ایک چپاتی خیرات کر دیتے تھے اور آدھی کسی کو ہدیہ کر دیتے تھے
(بحوالہ: ماہنامہ البلاغ مفتی اعظم نمبر، جلد ۲، صفحہ ۸۹۱)

