قسط نمبر آج کے دور میں آٹا دال چینی اور دیگر اجناس مہنگی ہوتی جارہی ہیں اور کفر کا فتویٰ لگانے کی مہر ستی ہوتی جارہی ہے۔ بعض لوگ اپنی ناواقفیت کی وجہ سے ایک دوسرے پر اور بالخصوص صوفیائے کرام کی ان باتوں کو جو کہ ان کی عقل میں نہ آنے والی ہوں تو بغیر سمجھے فتویٰ لگا دیتے ہیں ایسے لوگوں کوصوفیائے کرام کا مقام سمجھانے کیلئے مختلف مکاتب فکر سے صوفیائے کا مقام ذکر کیا جاتا ہے اور اللہ کے فضل سے آج کے اس گئے گزرے دور میں جبکہ بھائی بھائی سے دل برداشتہ ہو چکا ہے تسبیح خانہ سارے عالم میں یہ صدا لگا رہا ہے کہ اک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
(1) حکیم العصر شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو لوگ صوفیائے کرام پر شرک کے فتوی لگاتے ہیں وہ بے وقوف اور جاہل ہیں ، ورنہ اصل توحید تو ہوتی ہی صوفیاء کے پاس ہے۔ ( آگے فرماتے ہیں ) جب اللہ تعالیٰ کسی کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا میلان پاکباز لوگوں پر طعنہ بازی کی طرف کر دیتا ہے۔ (بحوالہ ہاہنامہ لولاک حکیم العصر ص 74 ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان)
(2) مورخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی صاحب رحمہ اللہ ( مکتبہ اہل حدیث ) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اسلام میں صوفیائے کرام کی تبلیغ کو نظر اندا کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ صوفیاء کرام نے بہت خدمات انجام دی ہیں۔ لہذا انھیں وہی اہمیت دی جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔ ( بحوالہ سہ ماہی مجلہ سلفی لاہور جون 2018 ص11)
(3) مولانا جلال الدین احمد امجدی صاحب دامت برکاتہم ( مکتبہ بریلویہ) فرماتے ہیں انبیائے کرام اور بزرگان دین ہی کا طریقہ سیدھا راستہ ہے لیکن آج کل بہت سے لوگ بزرگان دین کے عقیدے اور ان کے طریقے سے مسلمانوں کو بہکا رہے ہیں۔ دوسرے مقام پر آپ لکھتے ہیں اور جو سب بزرگوں کے عقیدے ہیں وہی ہم اہل سنت و جماعت کے بھی عقیدے ہیں ۔ ( بحوالہ کتاب بزرگوں کے عقیدے ص 5 ، مصنف مولانا جلال الدین احمد امجدی صاحب دامت سرکا تہم ، ناشر اکبر بک سیلرز لاہور
