صوفیائے کرام کے بارے میں غلط فہمی


آج کے دور میں آٹا دال چینی اور دیگر اجناس مہنگی ہوتی جارہی ہیں اور کفر کا فتوی لگانے کی مہر ستی ہوتی جا رہی ہے

بعض لوگ اپنی نا واقفیت کی وجہ سے ایک دوسرے پر اور بالخصوص صوفیائے کرام کی ان باتوں کو جو کہ ان کی عقل میں نہ آنے والی ہوں تو بغیر سمجھے فتوی لگا دیتے ہیں ایسے لوگوں کو صوفیائے کرام کا مقام سمجھانے کیلئے مختلف مکاتب فکر سے صوفیائے کا مقام ذکر کیا جاتا ہے اور اللہ کے فضل سے آج کے اس گئے گزرے دور میں جبکہ بھائی بھائی سے دل برداشتہ ہو چکا ہے تسبیح خانہ سارے عالم میں یہ صدا لگا رہا ہے کہ اک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے.

(1) حکیم العصر شیخ الحدیث مولانا عبد المجید صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو لوگ صوفیائے کرام پر شرک کے فتوی لگاتے ہیں وہ بے وقوف اور جاہل ہیں، ورنہ اصل توحید تو ہوتی ہی صوفیاء کے پاس ہے ۔ ( آگے فرماتے ہیں جب اللہ تعالی کسی کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں تو اس کا میلان پاکباز لوگوں پر طعنہ بازی کی طرف کر دیتا ہے۔

(2) مورخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی صاحب رحمہ اللہ ( مکتبہ اہل حدیث ) فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اسلام میں صوفیائے کرام کی تبلیغ کو نظر اندا کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ صوفیاء کرام نے بہت خدمات انجام دی ہیں۔ لہذا انھیں وہی اہمیت دی جائے جس کے وہ مستحق ہیں ۔

(3) مولانا جلال الدین احمد امجدی صاحب دامت برکاتہم ( مکتبہ بریلویہ ) فرماتے ہیں انبیائے کرام اور بزرگان دین ہی کا طریقہ سیدھا راستہ ہے لیکن آج کل بہت سے لوگ بزرگان دین کے عقیدے اور ان کے طریقے سے مسلمانوں کو بہکار ہے ہیں ۔ دوسرے مقام پر آپ لکھتے ہیں اور جو سب بزرگوں کے عقیدے ہیں وہی ہم اہل سنت و جماعت کے بھی عقیدے ہیں ۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025