ضعیف احادیث کی اہمیت

قسط نمبر90
ضعیف احادیث کی اہمیت
اکابر پر اعتماد

تحریر مولانامحمد اجمل قادری دامت برکاتہم ، فاضل جامعہ امدادیہ، فیصل آباد) مولانا صاحب ! میں آپ کا پیج ” اکابر پر اعتماد ” کو مسلسل دیکھ رہا ہوں اور دل سے دعائیں دیتا ہوں کہ آج کے اس گئے گزرے دور میں بھی آپ مخلوق خدا کوا کابررحمة الله علیہ کے دامن سے وابستہ کرنے کی
بھر پور محنت کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کو ثابت قدم رکھے آمین۔۔۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں بہت سے لوگ مسائل اور فضائل میں احادیث مبارکہ کو ایک ہی پیمانے سے پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک عام سا شخص بھی محدثین کبار

کی طرح احادیث پر جرح کرتا نظر آتا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ائمہ محدثین کے ہاں کسی نیک کام کی ترغیب دینے ، گناہ کے کام سے روکنے اور وعظ ونصیحت کے واقعات بیان کرنے کیلئے ضعیف روایات میں اس درجہ کی احتیاط نہیں کی جاتی جس درجے کی حلال و حرام کے معاملے میں کی جاتی ہے۔ (1) شیخ صالح بن عبد العزیز آل شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فضائل اعمال میں ضعیف حدیث سے دلیل پکڑنا جائز ہے (بحوالہ محاضرة بعنوان وصایا عامة ) (2) شیخ محمود طہان

رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ضعیف احادیث کو بیان کرنا ان کی اسناد میں نرمی والا پہلو اختیار کرنا اور انکے ضعف کو بیان نہ کرنا محدثین کرام کے ہاں جائز ہے (بحوالہ تیسیر مصطلح الحدیث ج 1 ص 33)۔(3) مولانا عبد الحی لکھنوی فرماتے ہیں: کہ تمام محدثین فضائل اعمال میں ضعیف حدیث کو معتبر جانتے ہیں ( بحوالہ الاجوبۃ الفاضلۃ ص 37)۔(4) ملاعلی قاری رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔ دوسری جگہ آپ رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ پکی بات ہے، فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جائے گا( بحوالہ المرقاۃ شرح مشکوۃ : ج2 ص183۔ 94) ۔ (5) علامہ ابن حجر ہیتمی رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ محدثین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے (6) مشہور محقق علامہ جلال الدین فرماتے ہیں : محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فضائل میں احایث ضعیفہ پر عمل کرنا جائز بلکہ مستحب ہے ( بحوالہ قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث ص 75)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025