دار العلوم میں فن منطق کی کتاب’’ سلم العلوم ‘‘ مولانا محمد حسین بہاری رحمۃ اللہ علیہ پڑھایا کرتے تھے۔ ان کے درس میں ایک جن طالب علم بھی انسانی شکل میں شریک ہوا کرتا تھا۔ امتحان ہوا تو اتفاق سے وہ جن طالب علم فیل ہو گیا۔ جس کی وجہ سے حسب ضابطہ دارالعلوم کی طرف سے اس کا راشن بند کر دیا گیا اور وہ شدید پریشانی کا شکار ہوا۔
ابھی ایک ،دو دن ہی گزرے تھے کہ ایک رات نیند کی حالت میں مولانا محمد حسین صاحب بہاری ؒکا اسی جن طالب علم نے گلا دبانا شروع کر دیا، جس سے انہیں بہت تکلیف ہوئی۔ آپ نے فرمایا: تم کون ہو اور مجھے کیوں تکلیف دے رہے ہو؟ کہنے لگا: میں وہی طالب علم ہوں جو انسانی شکل میں آپ کے پاس’’ سلم العلوم ‘‘پڑھتا تھا اور اب امتحان میں فیل ہونے کی وجہ سے میرا راشن بند کر دیا گیا ہے۔ آپ فوراً مجھے پاس کروائیں ، تاکہ میرا راشن جاری ہو سکے۔ بہر حال استاد محترم نے اگلے روز ناظم تعلیمات سے بات کر کے اس طالب علم کا پرچہ دوبارہ چیک کیا اور کچھ نمبروں کا اضافہ کر کے اس کے نمبر بڑھا دیے۔ چنانچہ ان کی سفارش پر اس جن کا راشن دوبارہ جاری کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ایک دن استاد محترم نے مدرسے میں سب کے سامنے اس بات کا اظہار فرمایا اور کہا کہ وہ طالب علم اب بھی آپ کے درمیان موجود ہے، مگر میں اس کی نشاندہی نہیں کروں گا۔ لہذا وقت گزرتا گیا اور کسی کو بھی اس طالب علم کا پتہ نہیں چل سکا ۔
( بحوالہ کتاب : حبیب السوائح ،صفحہ 117 ناشر: مکتبہ دار الكتاب ، یوسف مارکیٹ، اردو بازار لاہور )
