عبقری اور تسبیح خانہ وظیفے کیوں بتاتا ہے؟

کیونکہ عبقری اور تسبیح خانے کے پاس معتبر، مستند اور مضبوط شرعی دلائل ہیں کہ جب کوئی شخص کسی پریشانی یا مصیبت میں مبتلا ہوا تو خود رسول اللہ ﷺ نے اسے پڑھنے کیلئے وظیفہ سکھایا "لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم، سبحان اللہ رب العرش العظیم، والحمد للہ رب العالمین، اسئلک موجبات رحمتک ۔۔۔۔ (الیٰ آخر)”

جب کوئی شخص قرض کے بوجھ تلے دب گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بھی ہر وقت پڑھنے کیلئے وظیفہ دیا: اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن۔۔۔ (بحوالہ: مشکوۃ باب الدعوات) جب ایک صحابیہ خاتون بیوہ ہو گئیں تو اس موقع پر بھی انہیں سرورِ کونین ﷺ کی بارگاہِ عالی سے پڑھنے کیلئے وظیفہ ملا: اللھم اجرنی فی مصیبتی۔۔۔ (بحوالہ: صحیح مسلم) جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس ایک شخص نے آ کر قرض کی شکایت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اسے وظیفہ پڑھنے پر لگا دیا: اللھم اکفنی بحلالک عن حرامک۔۔۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مغفرت کیلئے یہ وظیفہ پڑھا کرتے تھے: اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کلما ذکرہ الذاکرون وغفل عن ذکرہ الغافلون (بحوالہ: حکومت اور علمائے ربانی، مصنف: حافظ عبداللہ محدث روپڑیؒ، ناشر: مکتبہ تنظیم اہل حدیث، چوک ڈالگراں، لاہور) امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ روزانہ فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان 40 مرتبہ یہ وظیفہ پڑھا کرتے: یا حی یا قیوم لا الہ الا انت برحمتک استغیث اصلح لی شانی کلہ (بحوالہ: سوانح مولانا محمد داؤد غزنویؒ، صفحہ 210 ناشر: مکتبہ غزنویہ، اردو بازار لاہور) حضرت پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ پر جب انوارات کا بوجھ بڑھ جاتا تو یہ وظیفہ پڑھتے: فان مع العسر یسراً، ان مع العسر یسراً

ان کے علاوہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری، مولانا عبید اللہ سندھی، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری، علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہم اللہ اجمعین و دیگر تمام اکابر اپنے پاس آنے والے لوگوں کو وظائف بتاتے تھے۔ مکتبہ اہل حدیث میں عارف باللہ حضرت عبداللہ غزنوی، مولانا غلام رسول قلعوی، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی، مولانا حکیم عبداللہ صاحب جہانیاں منڈی، امیر المجاہدین صوفی محمد عبداللہ، مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہم اللہ اجمعین و دیگر تمام اسلاف اپنے پاس آنے والوں کو وظیفے دیتے تھے۔

مکتبہ بریلویہ میں حضرت پیر علی ہجویری، حضرت نظام الدین اولیاء، حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت، حضرت شاہ رکن عالم، حضرت میاں شیر محمد شرقپوری، صوفی برکت علی رحمہم اللہ اجمعین و دیگر لا تعداد اولیاء کرام اپنے پاس آنے والوں کو وظیفے بتاتے تھے۔ مکتبہ اثناء عشریہ میں حضرت امام محمد باقر، امام جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم، امام محمد تقی، امام علی نقی، امام حسن عسکری رحمہم اللہ اجمعین و دیگر تمام علماء و مجتہدین اپنے پاس آنے والوں کو وظیفے بتاتے تھے۔ یعنی ہر دور میں آنے والے اولیاء کرام کا یہی مشن رہا ہے کہ مخلوقِ خدا کو ہر مشکل اور پریشانی میں اللہ جل شانہٗ کے در سے براہِ راست مانگنے اور لینے کا طریقہ سکھا دیا جائے۔ موجودہ دور میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی مشن عبقری اور تسبیح خانہ انجام دے رہا ہے۔ لہٰذا اگر ایسا کرنا شرعی گناہ یا دنیاوی جرم ہے تو پھر ان تمام اکابر و اسلاف کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026