عبقری تیرا شکریہ !عبقری کا نورانی حفاظتی کڑا!
دین اورشریعت کیا کڑا پہننے کی اجازت دیتی ہے؟
عبقری نے لاعلاج سسکتے مریضوں کی صحت یابی کیلئے اکابر ؒ کاآزمودہ نورانی عمل دکھی مخلوق خدا کیلئے عام کردیا۔تانبے کا کڑا جس پر خاص نورانی حروف لکھے ہوئے ہیں جو لاعلاج مرض کو چند ہی دنوں میں جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔اسلام حلال وحرام کے حوالے سے نہایت حساس مذہب ہے لیکن بوجہ مجبوری زندگی بچانے کو واجب قرار دیا اوربعض ممنوعہ چیزوں کوبھی حلال کر دیا۔آئیے پیارے آقا ﷺ کی زندگی سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
مردوں پر سونا حرام ہے لیکن بطور علاج حضور ﷺ نے اپنے ایک صحابیؓ کو سونے کی ناک لگوانے کا حکم فرمایا:
حضرت عبدالرحمن بن طرفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے دادا جان حضرت عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کی ناک کلاب کے روز کاٹ دی گئی۔ تو انہوں نے چاندی کی ناک لگوا لی تو اس سے بدبو آنے لگی۔ چنانچہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے سونے کی ناک لگوا لی۔
أبي داؤد، السنن، 4: 92، رقم: 4232، دار الفکر ترمذي، السنن، 4: 240، رقم: 1770، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي
وضاحت: کیونکہ سونے سے انفیکشن نہیں ہوتا یہ سائنس میرے کملے والےﷺ کے علم میں تھی۔
ریشم مرد پر حرام لیکن !رسول ﷺ نے اپنے صحابیؓ کوبطور علاج ریشم کی قمیض پہننے کی اجازت دی!
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی، حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو ریشمی قمیض پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی تھی کیونکہ ان دونوں حضرات کے جسم پر خارش تھی۔
بخاري، الصحيح، 3: 1069، رقم: 2762 مسلم، الصحيح، 3: 1646، رقم: 2076، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي
دارالافتاء : جامعۃ العلوم الاسلا میۃ بنوری ٹائون کراچی کا ایک فتوی پیش خدمت ہے:
سوال:افیون حرام ہے یا حلال ؟ کیا آپ دوا کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب:نشہ کی غرض سے افیون کا استعمال حرام اور قابلِ سزا جرم ہے۔ البتہ (بوقتِ ضرورت، بقدرِ ضرورت) دوا میں استعمال جائز ہے، اور ایسی دوا اگر کوئی مستند دین دار ڈاکٹر تجویز کرے تو بطورِ علاج اس کے استعمال کی اجازت ہوگی اور اسی مقصد کے لیے خرید وفروخت کرنا بھی درست ہوگا۔
الدر المختار میں ہے:”(ويحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون)؛ لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة (لكن دون حرمة الخمر، فإن أكل شيئًا من ذلك لا حد عليه وإن سكر) منه (بل يعزر بما دون الحد) كذا في الجوهرة.”(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب الأشربة (6/ 458)،ط. سعيد)فتاوی شامی میں ہے:”وبه علم أن المراد الأشربة المائعة، وأن البنج ونحوه من الجامدات إنما يحرم إذا أراد به السكر وهو الكثير منه، دون القليل المراد به التداوي ونحوه كالتطيب بالعنبر وجوزة الطيب، ونظير ذلك ما كان سميا قتالا كالمحمودة وهي السقمونيا ونحوها من الأدوية السمية.”(حاشية ابن عابدين: باب حد الشرب، مطلب في البنج والأفيون والحشيشة (4/ 42)،ط. سعيد)فقط، واللہ اعلمفتوی نمبر : 144211201551 ۔۔ دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔
کڑا تو مفتیانِ کرام و علماء نے بھی استعمال کیا
حوالہ نمبر 1: ”فتویٰ تاتارخانیہ“ فتوٰی کی اور دین کی وہ مشہور عالم ایک ضخیم کتاب ہے جس سے اب تک لاکھوں علماء، فقہاء اور مفتیانِ کرام نے استفادہ کیا۔ آئیں! اس کتاب سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔
سوال: کیا فرماتے علماء کرام بیج اس مسئلے کے اگر بطور علاج دھات کا کوئی چھلہ یا کڑا پاؤں یا بازو میں پہنا جائے جائز ہے یا حرام؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب: احادیث کا حکم حال کے امر کے مطابق ہوتا ہے ہر حدیث درست لیکن موقع اور حال دیکھا جائے جیسے تیمم کا حکم، ادویات میں کوئی نشہ آور دوا کا حکم، ریشم کے پہننے اور سونے کے استعمال، اسی طرح اگر جسم میں با امر مجبوری کوئی تکلیف ہو تو دھاتی کڑا یا چھلہ بطور علاج پہننا کوئی حرج نہیں کیونکہ بطور علاج علماء و فقہاء نے کتنی چیزوں کو جائز قرار دیا۔ لہٰذا یہی حکم کڑے اور چھلے کے لیے ہے۔ علاج اور صحت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ (بحوالہ: شرح ”فتویٰ تاتارخانیہ“ جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 248 مطبع منشی نول کشور لکھنؤ)
علی برادران کے مرشد نے بھی کڑا پہنا
حوالہ نمبر 2: آخر بیماری کے دوران والد صاحب کو ان کے مرشد نے تانبے کا کڑا پہننے کا فرمایا۔ انہوں نے کڑا بنوایا بازو کے اوپر پہنتے تھے تاکہ نظر نہ آئے۔ واقعی انہیں بہت فائدہ ہوا، فرماتے تھے بھائی شریعت نے آسانیاں اگر بتائی ہیں تو بھی ہمارے لیے، اگر پابندیاں بتائیں ہیں تو بھی ہمارے لیے ہم پابندیوں کو تو بتا دیتے ہیں اور آسانیاں چھپا دیتے ہیں۔ اس کے بعد والد صاحب نے کئی آنے والوں کو اس کڑے کے فوائد بتائے۔ بس نظر نہ آئے اور لوگ انہیں استعمال کرتے اور واقعی انہیں بھی فائدہ ہوتا تھا۔ قارئین یہ تجربہ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی گوہر برصغیر کے بڑے علماء اور قائدین کے مرشد مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ جن کے احوال مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ نے بھی بہت تفصیلات سے لکھے ہیں۔ حضرت فرنگی محلیؒ بہت بڑے عالم، مفتی، تحریک خلافت کے روح رواں اور پیر طریقت تھے۔ کیا ان کا تجربہ غلط ہے؟ کیا وہ عالم اور مفتی نہیں تھے؟
بحوالہ کتاب: ”تاثرات و شخصیات“ سوانح مولانا ذوالقادر علی مطبوعہ علی بک ڈپو، رام پور پریس نے چھاپا، خانم بازار ڈھاکہ۔ واضح رہے مولانا ذوالقادر علی، علی برادران کے بڑے بھائی تھے۔
42 مفتیوں اور 84 علماء کا فتویٰ
- حوالہ نمبر 3: سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ وہ متقی، نیک اور مخلص عالم تھے جو بغیر شریعت کے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔
- یہی وہ ہستی تھے جنہوں نے "فتاویٰ عالمگیری” مرتب کروایا، جس سے آج کروڑوں لوگ دین اور شریعت سیکھ رہے ہیں۔
- ان کے سوانح میں لکھا ہے: "سلطان اورنگزیب مسلسل تخت نشین رہتے اور علماء کے فتویٰ میں دن رات ساتھ دیتے تھے، تو ان کے گھٹنوں، جوڑوں اور کمر میں درد بہت زیادہ ہو گیا۔”
- اس وقت بے شمار علماء کی ایک بہت بڑی جماعت تھی جس میں 42 بڑے مفتی اور 84 بڑے علماء شامل تھے۔
- ان بڑی ہستیوں نے اپنا تجربہ بیان کیا کہ آپ اپنے بازو میں تانبے کا کڑا پہن لیں ‘بطور علاج’ تاکہ آپ کو راحت ملے۔
- چونکہ سلطان ہر چیز علماء سے پوچھ کر کرتے تھے، اس لیے علماء کے بتانے پر بادشاہ نے وہ کڑا بازو کے اوپر پہنا، اور شاہی پوشاک تلے وہ کڑا پہننے سے انہیں واقعی فائدہ اور نفع ہوا۔
- بحوالہ کتاب: "برصغیر میں مغلیہ دور کے منفرد سلاطین،” مصنف سید اقتدار اختر ندوی، مکتبہ ندوۃ العلماء لکھنؤ، صفحہ نمبر 43 سے 46 تک اس واقعہ کی مکمل وضاحت موجود ہے۔
مفتیِ اعظم پاکستان نے بھی یہ عمل کیا!
- حوالہ نمبر 4: حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ (جامعہ فاروقیہ کراچی) جب شیخ الوظائف کے پاس تشریف لے گئے، تو ان کے پاؤں کی بطورِ علاج مالش کی گئی۔
- ان کے پاؤں کی چھوٹی انگلی میں تانبے کا چھلہ تھا جو انہوں نے بطورِ علاج گردے کے لیے پہنا ہوا تھا۔
- حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ نے خود فرمایا کہ: "میرا ایک ہی گردہ ہے اور مجھے بطورِ ٹوٹکا کسی نے بتایا تھا، میں نے علاج کے طور پر اسے پہنا تو مجھے بہت فائدہ ہوا۔”
- مزید تفصیل: اس واقعہ کی تفصیل عبقری میگزین کے آرٹیکل "تانبے کا چھلہ! پراسرار اور حیرت انگیز فائدے” میں موجود ہے، جو دسمبر 2020ء کے شمارہ نمبر 24، صفحہ نمبر 24 پر شائع ہوا۔
حضرت مولانا ابوالحسن ندویؒ کے والد نے بھی کڑا پہنا!
حوالہ نمبر 5: جب ہمارے حصے تقسیم ہوئے تو میں نے کچھ نہیں لیا، بس والد صاحب کے استعمال شدہ چیزیں لیں، تو ان میں میرے حصے میں تانبے کا ایک کڑا جو بھاری بھی تھا، اس پر کوئی تحریری الفاظ کندہ تھے، پرانا ہونے کی وجہ سے وہ پڑھے نہیں جاتے۔
والد صاحب علالت اور بیماری کی حالت میں یہ پہنا کرتے تھے۔ انہیں کسی نے بتایا تھا تو پھر انہوں نے سالہا سال اسے استعمال کیا۔ اسے بھی میں نے بطور تبرک اپنے پاس رکھا کیونکہ وہ میرے والد کی نشانی تھی۔
- بحوالہ کتاب: "زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے،” تذکرہ والد محترم حضرت مولانا ابوالحسن ندویؒ، صفحہ نمبر 249، مکتبہ امدادیہ دارالعلوم مہاراشٹر بمبئی۔
