آج کے کم پڑھے لکھے لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حرز ابی دجانہ میں ذکر کی جانے والی روایت موضوع من گھڑت ہے اور اسکا کوئی ثبوت نہیں۔ ایسے دوستوں کی خدمت میں ان اکابر کی کتابوں کے نام پیش خدمت ہیں جنہوں نے اس تعویذ کو اپنی کتابوں میں بطور ترغیب ذکر کیا ہے کیا یہ لوگ علم نہیں رکھتے تھے یا آج ہم زیادہ علم رکھتے ہیں۔۔۔۔؟ کیا یہ ہمارے بڑے
نہیں تھے یا آج ہم ان سے زیادہ بڑے ہو گئے ہیں۔۔۔۔!!!
هذَا كِتَابٌ مِّنْ مُحَمَّدِ رَسُولِ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ إِلَى مَنْ يَطْرُقُ الدَّارَ مِنَ العُمَّارِ وَالرُّوَارِ إِلَّا طَارِقَا يَطْرُقُ بِخَيْرِ أَمَّا بَعْدِ فَإِنَّ لَنَا وَلَكُمْ فِي الْحَقِ سَاعَةً فَإِنْ كُنْتَ عَاشِقًا مُوْلِعًا أَوْفَاجِرًا فَهَذَا كِتَابٌ يَنطِقُ عَلَيْنَا وَعَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وَرُسُلُنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ ٥ أَتْرُكُوا صَاحِبَ كتابي هذا وَانْطَلِقُوا إِلى عَبَدَةِ الْأَصْنَامِ وَإِلى مَنْ يُرْعَمُ أَنَّ مَعَ اللَّهِ الَهَا أَخَرَ لَا إلهَ إِلَّا هُوَ كُلُّ شَيْ : هَالِك إِلَّا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ امِينَ لَا يُنْصَرُونَ حم عَسَقَ تَفَرَّقَ أَعْدَاءُ اللهِ وَبَلَغَتْ مُجَةُ اللهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِي
الْعَظِيْمِ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ
حوالہ جات: (1) (دلائل النبوة، کتاب جماع ابواب نزول الوحى …. الخ، ج ۷، ص ۱۱۸) (2) ( دلائل النبوة : ۱۱۸ / ۱۱۹-۷، دوسرا نسخه ۸۸ / ۷ ح ۳۱۰۸) (3) [ لقط المرجان فی أحکام الجان للسیوطی مترجم ( ص ۲۲۹ تا ۲۳۱-(4) امام ابن الجوزی نے کتاب الذکر ، باب حرز آبی دجانة (۱۶۶۰) (5) الخصائص الکبری ص 152 ج 2 ج (6) جمع الجوامع الجامع الكبير للسيوطى ص613 ، ج1 – (7) تنزيهة الشريعة المرفوعة (۳۲۴/۲، ۳۲۵)-(8) نزہۃ المجالس و منتخب النفائس ،مصنف : عبد الرحمن بن عبد السلام الصفوری رحمہ اللہ (المتوفى :894ھ)، ناشر: سعید ایچ ایم کمپنی (المتوفى:894ھ)،ناشر: ،کراچی۔ (9) إعانة الطالبين على حل ألفاظ فتح المعينمصنف : ابو بکر عثمان بن محمد شطا الدمياطی رحمہ اللہ (المتوفى : 1310ھ ) ۔ (10) مجربات اکابر ص 104 ، 23، مولانا اسحاق ملتانی ، تالیفات اشرفیہ ۔ (11) شرعی علاج ص 306 ،مولانا ابوالمنظفر ظفر احمدت، ہلو کی ۔ (12) دعا ئیں ص 43، تالیف : مولانا لیاقت لاہوری ، ناشر گا باسنز
کراچی۔(13) عملیات اکابر ، حسب فرمائش : سید المشائخ حضرت سید انور حسین نفیس الحسینی رحمہ اللہ ، ناشر، نفیس منزل کریم پارک راوی روڈ لاہور ۔ (14) مولانا محمد قطب الدین دہلوی نے ظفر جلیل شرح حصن حصین میں اسے ذکر کیا ہے۔ (15) تجلیات صفدر ، تالیف : حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ ترتیب : مولانا نعیم احمد مدرس : خیر المدارس ملتان، ناشر: مکتبہ امدادیہ ، ملتان۔ (16) ملفوظات محمود الحسن گنگوہی ج2 ص198، ترتیب مفتی فاروق صاحب، ناشر دار الہند زمزم کراچی ۔ (17) ارشاد العاملين، تالیف: علامہ ارشد حسن ثاقب، ناشر: ادارة القريش لاہور۔ (18) شرف المصطفیٰ ، ج : ۵،ص:۵۰۶، «فصل: ذکر الآیات فی دعاۃ المبارک، ط: دار البشائر ال إسلامیة ۔ (19) گنجینه اسرار ، تالیف : شیخ الحدیث حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری ، ناشر مکتبہ مدنیہ لاہور۔ (20) بہشتی زیور حصہ نہم ص 90 تالیف مولانا اشرف علی تھانوی ، ناشر، دار الاشاعت کراچی ۔ ( جبکہ حضرت تھانوی نے اسے نہایت مجرب بھی بتایا ہے)۔ (21) فتوی دار العلوم : 43720۔
عبقری میں ذکر کرنے کے بعد من گھڑت کا فتویٰ لگانے والے کیا ان تمام کتابوں پر بھی من گھڑت ہونے کا فتویٰ لگائیں گے۔۔۔!
