سوال : میں شیخ الوظائف کے ہر جمعرات ہفت وارتسبیح خانہ لاہور میں ہونے والے درس کو باقاعدگی سے سنتاہوں‘ اس کی برکت سے میر ی زندگی میں سنتوں کا نور سجتا جارہا ہے میں نےعبقری رسالہ میں ’’سنا مکی‘‘ کا تذکرہ پڑھا کہ یہ طب نبویﷺ میں استعمال ہونے والی بوٹی ہے براہ کرم’’ اکابرؒ پر اعتماد‘‘ کے احباب سے گزارش کرتاہوں کہ وہ اس کے حوالہ جات ارشاد فرمادیں تاکہ میں لوگوں کو عبقری کے پلیٹ فارم سے ملنے والے اس نبوی ؐ پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کروں۔ جزا ک اللہ!
جواب : ماہنامہ عبقری اور تسبیح خانہ کے منبر کی کوشش یہی ہےکہ ساری دنیا میں سنتیں عام ہوجائیں اسی وجہ سے ماہنامہ عبقری لاہور کے شمارے میں نبویﷺ جڑی بوٹیوں ، مسنون اعمال کا مستقل پرچار کیا جاتاہے اور تسبیح خانہ کامنبر بھی نبویﷺ اعمال اور نبویﷺ جڑی بوٹیوں کی افادیت کو سارے عالم میں عام کرنےکیلئے ہمہ تن کوشاں ہے آپ نےپوچھا ہے کہ عبقری میں’’ سنامکی‘‘ کا جو تذکرہ آیا ہے ان روایات کی تحقیق اور تخریج آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اللہ کریم ہمیں سنتوں پر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین!
( 1)’’تین چیزوں میں سوائے موت کے ہر مرض کے لیے شفاء ہے،’’ سنا مکی اور سنوت۔‘‘راوی(محمد )فرماتے ہیں کہ میں تیسری چیز بھول گیا ہوں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ ! ’’سنا مکی‘‘کو تو ہم پہچان چکے ہیں، یہ’’ سنوت ‘‘کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالی چاہتے تو تمہیں بتادیتے۔
(بحوالہ مستدرک حاکم۔کتاب الطب : ص 120 – 121،تالیف: شیخ عبد اللطيف البغداديؒ۔ الجامع الصغير3/ 304،رقم 3464۔وكذا في السراج المنير في ترتيب أحاديث صحيح الجامع الصغير)
–سنا مکی سے متعلق ذکر کردہ روایت حسن (صحیح کی قسم ) ہے، لہٰذا قابل بیان ہے۔
(مفتیان دار الافتاء الاخلاص کراچی ،فتوی نمبر :4509)
(2)’’حضرت ابو ابی ابن ام حرام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم ’’سنامکی‘‘ اور’’ شہد‘‘ کو لازم پکڑوکیونکہ ان میں سام کے علاوہ ہر بیماری سے شفا ہے۔ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول سام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: موت۔‘‘
اس حدیث کی تحقیق میں علامہ نور الدین سندھی رحمہ اللہ نے امام حاکم رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کا صحت پر اعتماد کیا ہے، البتہ علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس سند پر کچھ کلام فرمایا ہے لیکن چونکہ اس حدیث کے دیگر متابعات اور شواہد بھی موجود ہیںلہذا ان کی وجہ سے یہ حدیث صحت کے درجے میں پہنچ جاتی ہے۔
(حاشية السندي علی سنن ابن ماجه، كتاب الطب، باب السنا والسنوت، 2/ 344)
محترم قارئین ماہنامہ عبقری اورتسبیح خانہ کا منبر سارے عالم میں مسنون زندگی کی ہدایت اور رہنمائی پھیلانے کا عزم رکھتا ہے.
