(مولانا مفتی محمد ولید الرشیدی، مدرس: جامعہ مدنیہ قدیم، لاہور)
بعض نمازیوں نے مجھ سے مسجد میں پوچھا کہ عبقری رسالے میں بعض تعویذات ایسے ذکر ہوتے ہیں جو کہ ناف وغیرہ پر باندھے جاتے ہیں تو میں نے ایسے لوگوں کو فتاویٰ شامی کے حوالے سے عرض کیا کہ علامہ شامی رحمۃ اللہ جو کہ احناف کے بہت بڑے عالم ہیں اور ان کی کتاب مفتیانِ کرام بطور حوالہ کے استعمال کرتے ہیں انہوں نے اپنی کتاب فتاویٰ شامی جلد 6 ص 364 پر لکھا ہے کہ:
”ولا بأس بأن يشد الجنب والحائض التعاويذ على العضد إذا كانت ملفوفةً“
اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تعویذ وغیرہ ناف پر باندھ سکتے ہیں، البتہ تعویذ کو موم جامہ کر لیں۔
(کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 6، ص: 364، ط: ایچ ایم سعید)
(اللہ کریم کے فضل و کرم سے عبقری کی ہر چیز با حوالہ ہے اور اس کے پیچھے اکابرینؒ کے حوالہ جات ہیں)
