سالہا سال ماہنامہ عبقری اور ادارہ عبقری کی جانب سے شائع ہونےوالی کتابوں میں تعویذا ت و نقش ذکر ہوتےہیں اسے کے بارے میں چند ناسمجھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’نقش اور تعویذ‘‘ سے کس طرح مسائل کا حل ہوسکتا ہے ؟تو ایسے لوگوں کی خدمت میں نہایت ادب سے عرض ہے کہ و ہ اپنےمطالعہ کو بڑھائیں ۔
شیخ ابو جعفر محمد بن علیؒ(امام زین العابدینؓ) سے جب یونس بن حبانؒ ؒ نے پوچھا کہ اگر میں تعویذ لٹکائوں؟ فرمایا اگر وہ’’ تعویذ‘‘ اللہ کی کتاب سے ہو یا نبیﷺ کے کلام سے ہو تو لٹکالے اور اس سے شفاء حاصل کر ۔
امام ابن السُنّیؒ نے’’ عمل الیوم واللیلۃ ‘‘میں نبی کریمﷺ سے روایت کیا ہے کہ جب عورت تنگی ولادت میں مبتلا ہو تو ایک صاف برتن میں یہ لکھا جائے ’’کانھم یوم یرون مایو عدون (الخ) کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا الا عشیۃ او ضحٰھا ولقدکان فی قَصَصِمِ عبرۃ لاولی الالباب (الخ)‘‘پھر اس برتن کو دھو کر کچھ اس عورت کو پلا دیا جائے اور کچھ اس پر چھڑک دیا جائے۔
(عمل الیوم ص 231)(اکابرپر اعتما د قسط 457)
امام بیہقیؒ نے بھی دعوات میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جو عورت ولادت کی تنگی میں مبتلا ہو اس کے لئے قرآنی آیات کاغذ پر لکھ کر پلائی جائیں۔ امام حسن بصریؒ، امام مجاہد اور امام اوزاعی رحمھم اللہ سب یہ فرماتے ہیں کہ قرآن کو شفاء کے لئے لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام زہریؒ اپنے بچوں کو حافظے میں تقویت کے لئے چار سورتیں لکھ کر پلاتے تھے۔ (درّالنظیم فی خواص القرآن العظیم)
جی ہاں ! دلائل سے مزین اکابر پر اعتما د پیچ دلائل بناتا نہیں بلکہ دلائل بتاتا ہے۔۔!
