عبقری میں ذکر کردہ تعویذ وغیرہ روشنائی سے لکھنا؟

عبقری میں بہت سے تعویذات زعفران سے لکھنے کا ذکر ہوتا ہے اور یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ جو تعویذ زعفران سے لکھا جائے اس کی تاثیر زیادہ ہوتی ہے یہ بات کوئی فلسفہ اور کہانی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے اس بات کو سمجھانے کیلئے میں آپ دوستوں کی خدمت میں ایک قدیم دارالافتاء کا فتویٰ پیش کرتا ہوں جو کہ عبقری کے اس دعویٰ کی تائید کرتا ہے۔

سوال: (1) پہلے تعویذ وغیرہ زعفران سے لکھے جاتے تھے، کیا اس لیے زیادہ اثر کرتے تھے؟ آج کل تو اسکیچ سے بنائے جاتے ہیں۔

(2) اگر ہم زعفران سے تعویذ بنوائیں کسی عالم سے تو کس طرح؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم Fatwa ID: 501-554/L=6/1437

(1) تعویذ میں اصل وہ آیات و ادعیہ وغیرہ ہوتے ہیں جن کی برکت سے شفا ہوتی ہے خواہ ان کو زعفران سے لکھا جائے یا اسکیچ سے، البتہ زعفران کے بہت سے فوائد ہیں اس لیے بعض عاملین زعفران سے تعویذ لکھنے کا التزام کرتے ہیں۔ (2) یہ بات تعویذ لکھنے والا عامل خود ہی بتادے گا۔ (جواب نمبر: 64583)

اس فتوٰی کے آخری جملہ پر غور کریں تو آپ کو یہ بات سمجھ میں آئے گی کہ لکل فن رجال یعنی فن کیلئے ماہرین بھی الگ ہی ہوتے ہیں اس لیے کسی دوسرے فن کے اوپر فتوٰی لگانے سے پہلے اس کی گہرائی میں جانا یا اس کے ماہرین سے معلومات لینا بھی ضروری ہے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026