عبقری میں ذکر کردہ نقش و تعویذات بالکل جائز ہیں!

بہت سے دوست اکابر پر اعتماد کے پیج پر سوال کرتے ہیں کہ ماہنامہ عبقری اور ادارہ عبقری کی جانب سے شائع ہونے والی کتابوں میں بہت سے نقش اور تعویذات ذکر ہوتے ہیں تو ایسے دوستوں کو میں اپنی طرف سے کوئی جواب دینے کے بجائے حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ کی تحقیق پیش کرتا ہوں اس امید کے ساتھ کہ شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ:

حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ کی مشہور کتاب ’بہشتی زیور‘ کے حصہ نہم میں جھاڑ پھونک اور عملیاتِ خاص کے بہت سے نسخے درج ہیں۔ ان عملیاتِ خاص میں مختلف آیتیں بطورِ تعویذ انسانی جسم، خاص کر پیٹ، ناف، کمر اور ران پر باندھنے اور لٹکانے کا ذکر ہے۔

کیا یہ عمل قرآن کی آیات کی بے حرمتی اور بے جا استعمال نہیں ہے؟ اس سلسلے میں مزید چند سوالات آپ سے عرض ہیں:

۱۔۔۔۔۔ کیا احادیث میں یہ نہیں آیا کہ تعویذ لٹکانا یا باندھنا شرک ہے؟ اگر قرآنی آیات پر مشتمل تعویذ جائز ہے اور شرک نہیں تو پھر ایسا تعویذ جسم کے کس کس حصے پر جائز ہے؟

۲۔۔۔۔۔ ہمارے کچھ علماء کہتے ہیں کہ قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں کے علاوہ جو نقش اور ہندسے مثلاً: ۲، ۳، ۴، ۵ وغیرہ اور قرآنی الفاظ کے آگے پیچھے اور الٹ پلٹ کر لکھائی پر مشتمل تعویذ ناجائز، ممنوع اور حرام ہیں۔ حالانکہ ’بہشتی زیور‘ کے مختلف صفحات پر اس قسم کے تعویذوں کی ترغیب دی گئی ہے۔

آپ کی سہولت کی خاطر ایسے تعویذات کے حوالہ جات جو ’بہشتی زیور‘ کے نویں حصے میں بیان ہوئے ہیں اُن کی فہرست اور اشارات کا ایک الگ ورق خط کے ساتھ منسلک ہے۔ براہِ کرم جلدی جواب دیجئے گا۔ فقط والسلام (سائل خالد شجاع)

جواب: واضح رہے کہ جو شخص بھی اس دنیا میں آیا اس نے ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھ کر دوسرے جہانِ آخرت کو یقیناً جانا ہے۔ اس دنیا میں بھی ہماری کچھ ضروریات ہیں، لیکن یہ دنیا ہمارا اصلی گھر نہیں یہ تو مسافر خانہ ہے دنیا اور آخرت کے درمیانی بارڈر کا نام موت ہے اس سے اس طرف دنیا اور اس طرف آخرت ہے۔ ہم نے چونکہ دنیا و آخرت دونوں کی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں اس کے لئے کچھ کام ہم موت سے پہلے زندگی کے نفع و نقصان کے لئے کرتے ہیں اُن کاموں کو دنیا کے کام کہا جاتا ہے۔

جو کام ہم موت کے بعد آخرت کی زندگی کے بناؤ یا بگاڑ کے لئے کرتے ہیں اُن کو دین کے کام کہا جاتا ہے: مثلاً ہم نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد وغیرہ کرتے ہیں تاکہ آخرت کا گھر آباد ہو جائے اس لئے ان کو دین کا کام کہا جاتا ہے اور انکے احکام کو دینی احکام کا چار دلیلوں میں سے کسی دلیل سے ثابت ہونا ضروری ہے۔

ہم بخار کے لئے دوا کھاتے ہیں، بخار کے لئے دم کرواتے ہیں یا بخار کے لئے تعویذ لیتے ہیں انکا نفع و نقصان موت سے پہلے کی زندگی سے متعلق ہے، اس لئے کہ یہ سب دنیوی طریقِ علاج ہیں، جس طرح بخار کی دوا کے لئے نسخہ، اجزاء اور اوزان، طریقہ استعمال اور پرہیز وغیرہ امور کا دلائلِ اربعہ میں کسی سے انکی مکمل تفصیلات کا مذکور ہونا ضروری نہیں، (البتہ امورِ آخرت میں تفصیلات کا ادلہ اربعہ میں مذکور ہونا ضروری ہے) اسی طرح بخار کے بعض دم اور تعویذ کا بھی قرآن و حدیث میں مذکور ہونا ضروری نہیں ہے۔

اسی طرح بعض بیماریوں کی دواؤں کا ذکر بعض احادیث میں ملتا ہے، لیکن بہت سی بیماریوں اور دواؤں کا ذکر نہیں ملتا، اسی طرح بعض ’دم‘ احادیث میں مذکور ہیں اور بعض ’دم‘ احادیث میں مذکور نہیں۔

یہ اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ کوئی شخص اس لئے دم نہیں کرواتا کہ پل صراط سے آسانی سے گزر جائے نہ اس لئے تعویذ لیتا ہے کہ منکر نکیر کے سوالات کا جواب آسان ہو جائے یا دوزخ سے بچنے کا تعویذ مانگتا ہو۔

غرضیکہ دوا اور دم محض دنیوی طریقِ علاج ہیں اور دنیوی امور کے بارے میں جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”انتم اعلم بامر دنیاکم“ (صحیح مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب وجوب امتثال ما قالہ شرعاً۔۔۔۔۔۔ الخ۔ ۲/ ۲۶۳ ط: قدیمی کراچی، الطبعۃ الثانیۃ ۱۳۷۵ھ مطابق ۱۹۵۶ء)

”یعنی تم لوگ دنیوی امور میں اپنے تجربہ کی وجہ سے زیادہ جاننے والے ہو۔“

”امورِ معاش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے مبارک دوسروں کی طرح ہے اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ معارفِ آخرت کی طرف ہے۔“

مقصد یہ ہے کہ تعویذات اور دم وغیرہ کو محض طریقۂ علاج کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے اور دم و تعویذات وغیرہ کو دنیوی بیماریوں کے دنیوی علاج کی مانند سمجھنا لازمی ہے، اس بات کو اپنا اصل اور مبدأ بحث بناتے ہوئے اب اپنے سوالات کے جواب ملاحظہ فرمائیں:

۱۔۔۔۔۔۔ جو تعویذات قرآنی آیتوں اور اسمائے حسنیٰ اور دوسرے ثابت شدہ اوراد پر مشتمل ہوں ان کو تعویذ بنا کر باندھنا اور لٹکانا شرک نہیں بلکہ جائز ہے۔ کیونکہ اس کی حیثیت محض ایک دنیوی طریقۂ علاج کی ہے۔ جیسا کہ ’فتاویٰ شامی‘ میں ہے:

”ولا بأس بالمعاذات اذا كتب فيها القرآن او اسماء الله تعالى“۔۔۔۔۔۔ الخ (رد المحتار۔ کتاب الحظر والاباحۃ۔ فصل فی اللبس۔ ۶/ ۳۶۳۔ ط: ایچ ایم سعید کراچی)

اور دوسری جگہ ہے: ”او يكتب فى ورق ويعلق عليه او فى طست ويغسل ويسقى وعن النبى صلى الله عليه وسلم انه كان يعوذ نفسه، قال رضى الله عنه: وعلى الجواز عمل الناس اليوم وبه وردت الآثار“۔۔۔۔۔۔ الخ (المرجع السابق: ۶/ ۳۶۴۔)

دم اور تعویذ شرک نہیں بلکہ جائز ہیں اور اسی پر اجماع ہے۔ البتہ دم اور تعویذ کے لئے تین شرطوں کا تحقق لازمی ہے، اگر وہ تین شرطیں مفقود ہو جائیں تو پھر اس کے عدمِ جواز میں کوئی شک و شبہ نہیں مطلقاً دم اور تعویذ کو شرک کہنا غلط ہے۔ وہ شرطیں یہ ہیں:

۱۔۔۔۔۔۔ تعویذات اللہ کے کلام یعنی قرآنِ کریم سے ہوں یا اللہ کے اسماء و صفات سے ہوں۔

۲۔۔۔۔۔۔ عربی زبان میں ہوں اور اگر کسی عجمی زبان میں ہوں تو اسکے الفاظ کے معانی معلوم ہوں۔

۳۔۔۔۔۔۔ دم کرنے اور کرانے والا دونوں یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ دم اور تعویذ میں بذاتہ کوئی تاثیر نہیں بلکہ مؤثرِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ دم اور تعویذ صرف سبب اور ذریعہ ہیں۔

”وقد اجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط: ان يكون بكلام الله تعالى، او باسمائه وصفاته، وباللسان العربى او بما يعرف معناه من غيره، وان يعتقد ان الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ (فتح الباری شرح صحیح البخاری۔ کتاب الطب۔ باب الرقی۔ ۱۰/ ۱۹۵۔ رقم الحدیث: ۵۷۳۵۔ رقم الباب: ۳۲۔ ط: رئاسۃ ادارات البحوث العلمیۃ بالمملکۃ السعودیہ)

اور مسلم شریف میں ہے کہ جس دم اور تعویذ میں شرک نہ ہو وہ جائز ہے اس میں ممانعت نہیں۔ جیسا کہ فرماتے ہیں:

”لابأس بالرقى مالم يكن فيه شرک“۔۔۔۔۔۔ (صحیح مسلم۔ کتاب السلام۔ باب استحباب الرقیۃ من العین والنملۃ۔ ۲/ ۲۲۴۔ ط: قدیمی کراچی الطبعۃ الثانیۃ ۱۳۷۵ھ مطابق ۱۹۵۶ء)

مذکورہ شرائط کے ساتھ دم اور تعویذ کے جواز پر چاروں ائمہ متفق ہیں، جیسا کہ ’کتاب الآثار‘ میں ہے:

”قال محمد: وبه نأخذ إذا كان من ذكر الله أو من كتاب الله وهو قول أبي حنيفة“ (کتاب الآثار للامام الاعظم أبي حنيفة نعمان بن ثابت۔ کتاب الحظر والاباحۃ۔ باب الرقیۃ من العین والاکتواء۔ رقم الحدیث: ۸۸۹۔ ص: ۲۷۶۔ ۲۷۷۔ ط: الرحیم اکیڈمی باراول ۱۴۱۰ھ۔ وکذا فی مؤطا امام محمد ص: ۳۷۴۔ باب الرقی، ابواب السیر، ط: میر محمد کراچی۔ ۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۶۱ء)

اور بخاری کے حاشیہ میں ہے: ”فیه جواز الرقیة وبه قالت الائمة الاربعة وفيه جواز اخذ الاجرة“۔۔۔۔۔۔ الخ (حاشیہ البخاری لاحمد علی السھارنپوری۔ کتاب الاجارۃ۔ باب لایعطی فی الرقیۃ۔ ۱/ ۳۰۲۔ حاشیہ: ۸۔ ط: قدیمی کراچی، الطبعۃ الثانیۃ ۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۶۱ء)

  • حضرت عبداللہ بن عمروؓ کا تعویذ لکھ کر دینا ثابت ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ۔ کتاب الطب۔ فصل من رخص فی تعلیق التعاویذ۔ ۸/ ۳۹۔ رقم الحدیث: ۳۵۹۸۔ ط: ادارۃ القرآن کراچی، ۱۴۱۶ھ)
  • حضرت عبداللہ بن عباسؓ بچے کی پیدائش کے لئے دو آیاتِ قرآنی لکھ کر دیتے تھے ملاحظہ ہو (مصنف ابن ابی شیبہ۔ کتاب الطب۔ فصل فی الرخصۃ فی القرآن یکتب۔ ۸/ ۲۷۔ الحدیث: ۳۵۵۹)
  • سیدہ عائشہ صدیقہؓ اس بات کو منع نہیں فرماتی تھی کہ پانی کو تعویذ میں ملا کر اس پانی کو مریض پر چھڑکا جائے، ملاحظہ ہو (مصنف ابن ابی شیبہ ۸/ ۲۸۔ رقم الحدیث ۳۵۶۰)

یہاں تک کہ ابن صلاحؒ سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ: کیا حیوانات کو بھی نظر لگتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اسکے لئے جائز تعویذ قرآنی کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ: ہاں جانوروں کو بھی نظر لگتی ہے اور انکے لئے قرآنی تعویذ جائز ہے اور مکروہ نہیں ہے بلکہ اسکا ترک مختار ہے۔ (تجلیاتِ صفدر) (4)

غرضیکہ مذکورہ شروط پائے جانے کے وقت جائز دم اور جائز تعویذ جائز ہے، جیسے جائز علاج جائز ہے اور ناجائز علاج ناجائز ہے۔

جب یہ بات واضح ہو گئی کہ تعویذات وغیرہ بطورِ علاج کے لٹکائے جاتے ہیں، تو ظاہری بات ہے انسان کے جس حصہ اور عضو میں تکلیف ہو گی اسی حصہ اور عضو میں وہ تعویذ بطورِ علاج و دوا کے باندھا جائیگا، اور یہی تعویذ وغیرہ اگر کپڑے یا چمڑے میں لپٹا ہوا ہو تو اسے ناف، ران اور جسم کے کسی بھی دوسرے حصے میں باندھنے سے اسکی اہانت نہیں ہوتی جیسا کہ انسان کے جسم کے کسی بھی حصے میں اگر درد ہو اور اس پر کچھ پڑھ کر پھونک دینے سے اسکی اہانت نہیں ہوتی، تو اسی طرح قرآنی آیات کو اگر بطورِ علاج کے باندھا جائے تو اسکی اہانت نہیں ہو گی۔ البتہ کپڑے یا چمڑے میں لپیٹے بغیر تعویذ کو ران وغیرہ کے قریب باندھنا درست نہیں ہے، اس لئے کہ اس صورت میں قرآنِ کریم کی اہانت لازم آتی ہے۔ جیسا کہ

”فتاویٰ شامی“ میں ہے: ”ولا بأس بأن يشد الجنب والحائض التعاويذ على العضد إذا كانت ملفوفة“ (1)

لہٰذا ”بہشتی زیور“ میں حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ نے جو تعویذات ران اور ناف پر باندھنے کے لئے لکھے ہیں اُن تعویذات کو کپڑے یا چمڑے میں لپیٹ کر باندھنے سے قرآنِ کریم کی اہانت نہیں ہوتی، بلکہ جائز ہے اس لئے کہ یہ محض بطورِ دوا و علاج کے ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔ جو تعویذات نقشوں و ہندسوں کی صورت میں لکھے جاتے ہیں اگر وہ ہندسے اور نقشے ایسے ہیں جو کہ قرآنِ کریم کی آیات اور مسنون دعاؤں کے علاوہ کے ہندسے ہیں تو وہ ناجائز ہیں اُن کا باندھنا اور لکھنا درست نہیں ہے۔ البتہ وہ ہندسے وغیرہ ایسے ہیں جو کہ قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں وغیرہ کے ہیں تو ان ہندسوں والے تعویذوں کے جائز ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اس لئے کہ وہ قرآنی آیات اور دعاؤں پر دلالت کر رہے ہیں۔ دراصل اکابرین نے عوام کی سہولت کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کیونکہ قرآنِ کریم کی آیت کو بلا وضو اور ناپاکی کی صورت میں چھونا جائز نہیں ہے جبکہ ان حالات میں انکے ہندسوں اور نقشوں کو چھونا جائز رہے گا۔

حاصل یہ ہے کہ جائز تعویذات کے نقش اور ہند سے جائز، اور ناجائز کے ناجائز ہیں، اور اکابرین نے آیات کے نقش اور ہندسوں میں تاثیر و اثر ہونے پر اپنے تجربات کو ذکر کیا ہے اور اس میں علاج والی تاثیر موجود ہونے کی صراحت کی ہے لہٰذا جائز تعویذات کے نقش و ہندسوں کے عدمِ جواز کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ’فتاویٰ شامی‘ میں ہے:

”اقول الذی رایته فی المجتبیٰ: التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن… ولا بأس بالمعاذات اذا كتب فيها القرآن او اسماء“ (رد المحتار۔ کتاب الحظر والاباحۃ۔ فصل فی اللبس۔ ۶ / ۳۶۳۔ ط: ایچ ایم سعید، کراچی)

الله تعالیٰ ويقال رقاه الراقى رقياً ورقیة إذا عوذه ونفث فى عوذته قالوا: وإنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب ولا یدری ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شئى من الدعوات فلا بأس به“ ۵۱(۱)

اور قرآنِ کریم کے الفاظ کو آگے پیچھے اور الٹ پلٹ کر لکھنا خلافِ سنت اور ناجائز ہے اور ایسی لکھائی پر مشتمل تعویذ بھی خلافِ سنت اور ناجائز ہے۔ جیسا کہ ”الاتقان فی علوم القرآن“ میں ہے:

”وقال البیهقی فى شعب الایمان من یكتب مصحفاً فینبغی ان یحافظ علی الهجاء الذی كتبوا به تلك المصاحف ولا يخالفهم فیه ولا یغیر مما كتبوه شیئاً فانهم كانوا اكثر علماً وا صدق قلباً ولساناً واعظم امانة منا فلا ینبغی ان نظن بأنفسنا استدراكاً عليهم…… الخ“ (الاتقان فی علوم القرآن لل امام جلال الدین السیوطی۔ النوع السادس والسبعون فی مرسوم الخط وآداب کتابتہ۔ فصل: القاعدۃ العربیۃ۔ ۲ / ۱۷۶۔ ط: سھیل اکیڈمی لاہور۔ ۱۳۹۴ھ)

البتہ اگر بیماری ایسی ہو کہ اس کا کوئی علاج نہ ہو اور کوئی دوا نہ ہو اور اس کا علاج سوائے اس قسم کے اور کوئی نہ ہو تو پھر بحالتِ مجبوری اس طرح کا تعویذ استعمال کرنا جائز ہو گا، جیسا کہ بحالتِ مجبوری جب کوئی راہ نہ ہو تو حرام چیز کے ساتھ علاج کرانا جائز ہے اور اسی پر محمول ہے جو کچھ کہ حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ نے اس موقع پر بہشتی زیور میں لکھا ہے۔

الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ

محمد عبدالمجید دین پوری، محمد شفیق عارف، رشید احمد سندھی بينات۔ صفر ۱۴۲۴ھ، مطابق مئی ۲۰۰۳ء، جلد: ۶۶۔ شمارہ: ۲، ص: ۵۵-۶۰

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ماہنامہ عبقری اور تسبیح خانہ وہی سودا بیچتا ہے، جس کے پیچھے اکابرین کی مہر ہو۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026