عبقری والوں کو برکت ہیضہ تونہیں ہوگیا ۔۔۔! کیا جانور سے بھی برکت مل سکتی ہے ؟

تسبیح خانہ کا موضوع ہی برکت کی تلاش ہے، تسبیح خانہ لاہور ان ہی چیزوں کو بیان کرتا ہے جن کی وجہ سے زند گی خوشحال اور موت بے مثال ہوجائے، زندگی کو خوشحال بنانے میں جہاں دیگر ذرائع وا عمال ہیں وہاں برکتوں کے فیصلے کرانے میں بکریاں پالنا بھی ہے۔لوگوں کے ذہن میں سوال آتا ہو گاکہ عبقری والوں کو برکت کا ہیضہ تونہیں ہوگیا ۔۔۔!کیا جانور سے بھی برکت مل سکتی ہے ۔۔۔!

تو اس کا جواب ہم احادیث مبارکہ کی روشنی میں دیتے ہیں کہ برکتوں کے اس نظام کا فیصلہ عبقری والوں نے نہیں کیا بلکہ ڈیڑھ ہز ار سال قبل بارگاہ نبوت ﷺ کی زبان اطہر سے یہ برکت بیان کی گئی ہے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں :

(۱)جس گھر میں 3بکریاں ہوں اس گھر میں فرشتے صبح تک دعائے رحمت کرتے ہیں(ابن سعد)۔ (۲)اللہ پاک نے معیشت بکری اور کھیتی میں رکھی ہے (ابن ابی الدنیا)۔ (۲)بکری کی خدمت کرو کیونکہ یہ جانور جنت میں سے ہے۔ بکری والوں میں سکینہ اور وقار ہے(مجمع)۔ (۴)آپ ﷺ نےفرمایا کہ ایک بکری ایک برکت، دوبکریاں دو برکت تین بکریاں تین برکتیں ہیں(ادب المفرد)۔ (۵)آپ ﷺ نےبکریوں کےساتھ بھلائی کی وصیت فرمائی کیونکہ یہ کمزور جانو رہے۔

بکریاں گھر میں برکت کا باعث ہیں، یہ بات تو مختلف روایات میں موجود ہے،۔ بکریوں کے بابرکت ہونے کا ذکر مختلف کتابوں میں موجود ہے۔البتہ امام طبرانی نے ایک روایت صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر میں بکریاں پالا کرو، ان میں برکت ہے۔: عن أم هانيء أن النبي صلى الله عليه و سلم قال: اتخذوا الغنم فإن فيها بركةً.”

وضاحت :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بکریوں میں برکت کا ارشاد فرمایا ہے اور اس وجہ سے ان کے پالنے کی ترغیب دی ہے۔ فقط واللہ اعلم

1۔ اُم ھانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُن سے فرمایا ﴿اتَّخِذِي غَنَمًا فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً :::تُم بکریاں لو (یعنی بکریاں پالو اور اُن کی تجارت کرو ) کہ بکریوں میں برکت ہوتی ہے۔

2۔ مسند احمد میں ثقہ رواۃ سے موقوفاً مروی ہے :وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ میرے والد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ،تو سیدنا ابو ہریرہ نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ،تو میرے والد نے عرض کیا کہ میری کچھ بکریاں ہیں (ان کے پاس جارہا ہوں ) تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اچھا ہے ، آپ ان بکریوں سے مٹی جھاڑا کیجئے ، اور ان کی رہائش کو صاف ستھرا رکھیئے ،اور ان کے پاس نماز بھی پڑھ لیا کیجئے، کیونکہ بکریاں جنت کے جانوروں میں سے ہیں ۔

(رجاله ثقات رجال الشيخين ،الذهبي في "السير” 5/226۔ أخرجه مالك في "الموطأ” برواية يحيى 2/933، وبرواية أبي مصعب الزهري (1965) ، ومن طريقه المزي في ترجمة حميد من "تهذيب الكمال” 7/390، وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد” (572) عن إسماعيل بن أبي أويس، كلاهما (مالك وإسماعيل) عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن حميد بن مالك، عن أبي هريرة وفيه قصة. وهذا إسناد صحيح)

3۔ نبی مکرم ﷺ کی چچا زاد سیدہ ام ھانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : اے ام ھانی بکریاں پالو کیونکہ یہ شام کو خیر کے ساتھ آتی ہیں اور صبح خیر کے ساتھ جاتی ہیں "۔

4۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تم لوگ بکری کے ٹھکانے میں نماز پڑھو اور اسکی ناک سے بہنے والا پانی صاف کرو یا مٹی صاف کردوکیونکہ یہ جنت کے حیوانات میں سے ہیں۔

5۔ سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”بکری جنت کے جانوروں میں سے ہے “۔

عبقری تو ایک ڈاکیہ ہے جو قرآن وسنت اور تعلیمات اکابرؒ کے پیغامات آپ تک پہنچا رہا ہے ۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025