محترم قارئین ! کچھ لوگ عبقری وظائف کے متعلق کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث میں آیات اور مسنون دعائیں کسی اور مقصد کیلئے بتائی گئی ہوتی ہیں، جبکہ عبقری والے انہیں کسی اور مقصد کیلئے چھاپ دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ الم نشرح سے ٹریفک کھل جاتی ہے ، کبھی لکھتے ہیں کہ سورہ کوثر سے گاڑی کا پٹرول بڑھ جاتا ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ درود شریف پڑھنے سے بلڈ پریشر کنٹرول ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ میرے محترم دوستو! ان لوگوں کو اگر معلوم ہوتا کہ ہمارے اکابر علماء و محدثین قرآن وحدیث سے مسائل کا استنباط کس طرح کیا کرتے تھے، تو یہ لوگ ایسی باتیں ہر گز نہ کرتے ۔ محدث مدینہ شیخ عبد الغنی مجددی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : استغفار کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مزاج اور رویے میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر والوں کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کی شکایت کی تو آپ کی نے فرمایا: تم استغفار کیوں نہیں کرتے؟
(ابن ماجہ ، باب الاستغفار حدیث 3817 بحوالہ کتاب: انجاح الحاجة شرح سنن ابن ماجه، تالیف : شیخ عبدالغنی
مجددی دہلوی ، حاشیہ: مولانا فخر الحسن محدث گنگوہی ، ناشر : قدیمی کتب خانه، آرام باغ کراچی )
عبقری وظائف پر اعتراض کرنے والوں کو چاہئے کہ سنی سنائی جاہلانہ باتوں پر عمل کرنے کی بجائے صرف ایک مرتبہ قرآن مجید کا ترجمہ اور احادیث کی تشریح غور سے پڑھ لیں تو حق بات واضح ہو جائے گی۔ درج بالا حدیث میں غور کریں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے شکوہ تو اپنے غصے کا کیا، مگر جواب میں آقا سرور کونین سلیم نے وظیفہ استغفار بتایا۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ استغفار تو گناہوں کی معافی کیلئے ہوتا ہے لیکن سورۃ النجم میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے : وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى یعنی انسان جس شعبے میں محنت کرنا شروع کر دے، اللہ کریم اس شعبے کے علوم کی راہیں اس پر کھول دیتا ہے۔ تو اگر ہمارے گزشتہ تمام اکابر و اسلاف رحمہم اللہ اجمعین کی طرح حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ پر بھی اللہ جل شانہ نے وظائف کے فوائد کھول دیے ہیں تو اس میں کسی کو کیا اعتراض ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے اولیائے کرام پر علوم و معارف کے سمندر نہیں کھولے تھے ؟
کیا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی” پر روح ، تقدیر، وحدت الوجود اور نفس کے چار علوم نہیں کھلے تھے؟ کیا حضرت تھانوی پر اعمال قرآنی کتاب کی صورت میں قرآنی آیات کے فوائد نہیں کھلے تھے؟ کیا حضرت کا شمیری پر گنجینہ اسرار کتاب کی شکل میں وظائف کی تاثیر نہیں کھلی تھی؟ کیا امام جلال الدین سیوطی اور امام عبد الوهاب شعرانی” پر جنات کی دنیا نہیں کھولی گئی تھی ؟ کیا علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی طرح شیخ عبد القادر جیلانی اور شیخ عبد العزیز محدث دہلوی کو جنات سے ملاقات نہیں کروائی گئی تھی؟ یہ کیسے فضول اور بے بنیاد قسم کے اعتراض ہیں جو عبقری میگزین پر کیے جاتے ہیں؟ حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ عبقری میں وظائف بنائے نہیں جاتے ، صرف بتائے جاتے ہیں کہ لوگو! اپنے اکابر کا فلاں وظیفہ پڑھو تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اپنے اسلاف کا فلاں عمل کر لو تمہاری مشکل ٹل جائے گی ۔ اپنے بڑوں کی فلاں ترتیب پر آجاؤ تمہاری زندگی سنور جائے گی۔۔۔
یہی پیغام اور یہی ترتیب ہر دور کے اولیاء صالحین کی تھی اور یہی مقصد اور یہی ڈیوٹی تو انبیاء علیہم السلام اور آل و اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تھی۔ بھلا عبقری نے آکر کون سی بدعت ایجاد کر دی ہے؟ اگر قرآن و سنت کی طرف بلانے کا نام "بدعت” ہے تو پھر تمام اکابر و اسلاف کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جناب!
