قربِ قیامت کے اس فتنوں بھرے دور میں کچھ لوگ اپنے اکابر و اسلاف (صحابہؓ و تابعینؒ، فقہاء و محدثینؒ، اولیاء و صالحینؒ) کی ترتیب سے اتنا دور ہو چکے ہیں، کہ ان کے سامنے جونہی کوئی فائدہ مند بات آتی ہے، فوراً کہتے ہیں: ہم ایسی من گھڑت باتوں کو نہیں مانتے اور خاص طور پہ ماہنامہ عبقری میں آنے والے وظائف پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ کس حدیث سے ثابت ہیں؟ حالانکہ عبقری کے جتنے بھی وظائف ہیں، سب کے پیچھے قرآن و سنت اور اکابرینِ امت کی دلیل موجود ہے۔ اگر ہمارا اپنا دینی مطالعہ ختم ہو چکا ہے اور اگر ہم خود شریعت سے ناآشنا ہو چکے ہیں تو اس میں عبقری کا کیا قصور! رہی بات ہر وظیفے کے فوائد پر حدیث کے ثبوت کی، تو ایک بات ذہن نشین رکھیے کہ قرآن و سنت سے ماخوذ یا ماثورہ دعائیں اور وظائف جب کسی شخص کے تجربے میں آتے ہیں اور زبان پہ اس وظیفے کی کثرت ہوتی ہے تو اللہ پاک اس وظیفے اور اس دعا کے بے شمار فائدے عطا کرتا ہے۔ پھر انہی تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے بندہ اپنے دوستوں، رشتہ داروں سے کہتا ہے کہ بھئی: میرا مسئلہ تو فلاں وظیفے کی برکت سے حل ہو گیا، تم بھی اسے ضرور آزماؤ اور اس کے فائدے پاؤ۔ جیسا کہ ماہنامہ القاسم میں استاذ العلماء مولانا مفتی خالد محمود صاحب لکھتے ہیں کہ: جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ اس کا مال بڑھ جائے، اسے چاہئے کہ وہ یہ والا درود شریف پڑھا کرے:
(اللهم صل على محمد عبدك ورسولك وصل على المومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات)
جو شخص صبح شام سات مرتبہ یہ درود شریف پڑھے گا، تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو باعزت رکھے گا۔
(اللهم صل على سيد العالمين حبيبك محمد وآله صلوٰةً انت لها اهل وبارك وسلم كذالك)
(بحوالہ: ماہنامہ القاسم، دسمبر 2018ء، صفحہ 16 ناشر: جامعہ قاسمیہ دارالافتاء ڈیرہ غازی خان)
محترم قارئین! ماہنامہ القاسم میں شائع شدہ درود شریف کے ان کمالات کو دیکھ کر کوئی شخص کہے: بھلا یہ کس حدیث سے ثابت ہیں تو اسے کہا جائے گا: بھئی جا کر اپنی عقل کا علاج کرواؤ۔ جو علمائے دین یا اولیاء اللہ تجھے وظائف بتا رہے ہیں، وہ قرآن و حدیث کے معاملے میں تم سے زیادہ محتاط ہیں اور دین کو تم سے زیادہ سمجھتے ہیں، اسی لیے اللہ پاک نے انہیں اپنا ذکر عام کرنے کیلئے چنا ہوا ہے اور تم لوگوں کو وظائف اور اذکار سے الٹا دور کرنے کی محنت میں لگے ہوئے ہو۔ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم بھی اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور مخلوقِ خدا کو خدا تعالیٰ سے دور کرنے کی بجائے اسی کے ذکر پہ لگانا شروع کر دو؟
