علامہ لاہوتی صاحب کے خوشی غم میں شریک ہونے والے جنات کی حقیقت

موجودہ صدی میں جہاں انسانی دماغ ترقی کرتا جا رہا ہے اسی رفتار سے ہماری روح بھی تنزل کی طرف جاتی جا رہی ہے، آج ہم آنکھ سے نظر نہ آنے والی ہر چیز کو سائنسی ریسرچ اور تحقیق کہہ کر تو قبول کر لیتے ہیں۔۔۔! لیکن اللہ معاف کرے قرآن وحدیث اور بزرگانِ دین کے واقعات کو اپنی عقل کے ترازو پر تولتے رہتے ہیں۔۔۔! علامہ لاہوتی صاحب کی ”جنات سے ملاقاتیں“، ان کے ساتھ خوشی غمی میں شریک ہونا کوئی ایسی ناممکن بات نہیں تاریخ میں ہمیں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جو کہ علامہ صاحب کے ہر ہر واقعہ کی تصدیق کرتی ہیں۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا انظر شاہ صاحب کاشمیریؒ (جنہوں نے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور دیگر سلاسل میں خلافت عطا فرمائی۔ تفصیل کیلئے دیکھیں ماہنامہ الحسن لاہور، بمطابق اگست 2009) اپنے والد محترم حضرت علامہ انورشاہ کاشمیریؒ کے انتقال پر ملال پر ”جنات“ کے غم کا اظہار کچھ اس طرح فرماتے ہیں:

عصر اور مغرب کے درمیان بیماری کی شدت بڑھتی رہی بلکہ مغرب کے بعد سے نزع کی کیفیات طاری ہو گئیں ہوش وحواس کی سلامتی جاتی رہی، وقت گزرنے کے ساتھ آپ کی بے چینی بڑھتی جاتی، تشنگی کا یہ عالم تھا کہ چند سیکنڈ کے وقفہ سے پانی کی ضرورت محسوس کرتے پانی پینے کے ساتھ ”حسبنا اللہ“ پڑھتے اور لیٹ جاتے خالہ زاد بھائی محمد سعید کی والدہ کا بیان ہے میں نے جلتے ہوئے چراغ کو پست کیا تو گھر کا پورا صحن سفید پوش لوگوں سے جن کے سروں پر عربی عمامے تھے لبریز ہو گیا، مجھے کبھی اپنی آنکھوں پر شبہ ہوتا اور کبھی اس منظر پر حیرت ہوتی کیا یہ دارالعلوم کے طلبہ ہیں؟ لیکن آج تو اندر آنے کی کسی کو اجازت نہیں، کیا یہ بلند پایہ علماء کا گروہ ہے؟ جنہیں ان کی خصوصیت کی بناء پر آنے کی اجازت ملی ہے۔ وہ مقدس ہجوم (فرشتوں وجنات) جس نے گھر کے ماحول کو لبریز کر رکھا تھا کلمہ طیبہ کے ورد کے ساتھ کوئی چیز ہاتھ میں لے کر گھر سے باہر جا رہا تھا۔ میں نے جب شاہ صاحبؒ کی طرف دیکھا تو وہ اس وقت ساکت وصامت لیٹے ہوئے تھے علم و کمال کا آفتاب غروب ہو گیا تھا۔۔۔!

”ایک بھیا نک پردرد آواز سنی گئی ’لوگو تم سو رہے ہو امام الحدیث کی وفات ہو گئی‘ یہ ایسی سوز گزار اور درد بھری آواز تھی کہ دارالعلوم میں سوئے ہوئے سب طالب علم جاگ گئے۔ تیسری جانب حضرت مدنیؒ کے خادم ان کے سر کی مالش کر کے ابھی جا کر لیٹے ہی تھے فلک شگاف نعرہ کانوں میں گونجا میں گھبرا کر اٹھا دیکھا کہ حضرت مدنیؒ باہر تشریف لے آئے فرمایا ’یہ بلند اور آہنگ آواز جنات کی تھی جو کہ حضرت شاہ صاحب کی وفات پر ماتم کناں ہیں کچھ طلبہ نے جنات کے گروہ کو بھی جاگتی آنکھوں سے دیکھا، جہاں سے یہ درد والم اور یہ خوفناک آوازیں نکل رہی تھیں‘۔

محترم قارئین! کیا ہم اس واقعہ کو بھی من گھڑت، خود ساختہ، یا دیو مالائی کہانی کہہ کر جھٹلا دیں گے، نہیں ہر گز نہیں۔۔۔! ہمیں ’اکابر پر اعتماد‘ تھا۔۔۔ ہے اور ان شاء اللہ رہے گا۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026