علم نجوم کے بارے میں ایک مستند دارالافتاء کا فتویٰ

ایک مستند ادارے سے جب علم نجوم سیکھنے اور اس سے استفادہ حاصل کرنے کے بارےمیں سوال کیا گیا ‘انہوں نے اس سوال سے متعلق جو جواب دیا اس کالب لباب ملاحظہ کیجئے۔

علمِ نجوم (یعنی ستاروں اور ان کی گردش نیز اس کے نتیجے میں کائنات کے نظام میں رونما ہونے والے واقعات کا علم) سے دو کاموں میں مدد لی جاتی ہے، ایک حساب میں اور دوسرا استدلال میں۔علمِ نجوم سے شرعی اَحکام میں مدد لینا مطلوب و مستحسن ہے، مثلاً نماز کے اوقات معلوم کرنا، قبلہ کا رخ معلوم کرنا وغیرہ۔ علمِ نجوم سے ضروریات پوری کرنے کے لیے یا سہولت پیدا کرنے کے لیے مختلف تجربہ کرنا اور ان تجربوں کی روشنی میں استدلال کرنا بھی ایسے ہی جائز ہے، جیسے ایک طبیب کا صحت و مرض کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے انسانی نبض سے تجربہ کرکے استدلال کرنا جائز ہے۔البتہ علمِ نجوم کو دنیوی چیزوں یا واقعات میں مؤثرِ حقیقی سمجھنا یا اس طور پر استعمال کرنا جس سے لوگوں کے عقیدے خراب ہونے کا اندیشہ ہو، یہ ناجائز ہے۔حاصل یہ ہے کہ علمِ نجوم کو شرعی اَحکام کی حد تک سیکھنا مطلوب و مستحسن ہے، دنیوی کاموں کے لیے سیکھنا مباح و جائز ہے، بشرطیکہ عقیدہ کی خرابی کا اندیشہ نہ ہو ۔

اب قارئین آپ خود فیصلہ کریں کہ عبقری ان ستاروں اور ساعتوں کے ذریعے لوگوں کو کس کام پر لگا رہا ہے۔ عبقری خاص ساعتوں میں لوگوں کو شرک و بدعت کی بجائے قرآنی اور مسنون اعمال دے رہا ہے نہ کہ امت کو ایسے کاموں پر لگایا جا رہا ہے جس سے لوگ شرک و بدعت کی طرف جائیں جس کا خدشہ فتویٰ کے آخر میں بیان کیا گیا اورمنع کیا گیا ہے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025