یہ بات میں نہایت یقین اور اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ میرے اکابرؒ کو اتباعِ سنت ﷺ میں سب سے زیادہ استقامت کی وجہ سے فراستِ مومنانہ حاصل تھی وہ وقت کے تقاضے اور حال کے امر کو سمجھنے والے تھے زندگی کے ہر شعبے میں ان کی ہدایات مشعلِ راہ ہے ان کے شعبہ جات میں سے ایک شعبہ عملیات ہے۔ اس شعبے کی بنیادوں میں جن اکابرین کی خدمات شامل ہیں ان میں علامہ احمد علی بونیؒ، حجۃ الاسلام امام غزالیؒ، علامہ کمال الدین دمیریؒ، علامہ جلال الدین سیوطیؒ، شیخ ابو طالب مکیؒ، حجۃ اللہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، شیخ المسلمین شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ، مہتمم دارالعلوم شاہ رفیع الدین صاحبؒ، حاجی عابد حسین صاحبؒ، مولانا میاں سید اصغر حسین صاحبؒ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحبؒ، امام المشائخ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحبؒ، قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہم اجمعین جیسی مایہ ناز ہستیاں شامل ہیں۔
یہ بات نہایت افسوس ناک ہے کہ کچھ اسلاف سے بیزار شخصیات اپنے اکابر کی زندگی سے پہلو تہی برتنے اور انہیں خطاوار کہلوانے پر تلے ہوئے ہیں اس کی وجہ اکابر کی زندگی سے ناآشنائی ہے۔
حکیم طارق چغتائی جو کچھ وظائف اپنے رسالہ اور کتب میں لکھ رہے ہیں کیا وہ میرے ان اکابر کی زندگی سے ثابت نہیں ہیں؟؟؟
