عملیات ہی عملیات

مولانا صاحب! یہ جو عبقری جیسے رسالوں میں آئے دن نئے نئے وظیفے بتائے جاتے ہیں، کیا ایسی کوئی ترتیب ہمارے اکابرین کے ہاں ملتی ہے؟ ہم نے تو آج تک کسی عالمِ دین کے عملیات کے متعلق نہیں سنا۔ براہ کرم دلیل سے بات کیجئے گا (سائل: محمد حنیف مدنی، سیالکوٹ)

الجواب بعون الوہاب: گزارش یہ ہے کہ اکابرین عظام رحمہم اللہ کے ہاں جتنے زیادہ وظیفے رائج تھے عبقری میں تو ابھی تک ان کا عشرِ عشیر بھی نہیں سما سکا۔ اگر آپ محدث العصر علامہ انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ ہی کی ایک کتاب ”گنجینہ اسرار“ کو دیکھ لیں تو اس میں درج ذیل عملیات اور تعویذات ملتے ہیں۔

ہرن کی جھلی پر لکھنے والے تعویذ کی تعداد (2)
دھو کر پینے والے تعویذوں کی تعداد (5)
سمجھ میں نہ آنے والے منتروں کی تعداد (1)
لکھنے والے تعویذوں کی تعداد (206)
پڑھنے والے وظیفوں کی تعداد (312)
پڑھ کر تالی بجانے والے عمل کی تعداد (1)
لکھ کر چرخہ الٹا گھمانے والے عمل کی تعداد (1)
انڈے کا چھلکا اتار کر لکھنے والے عمل کی تعداد (1)
پڑھ کر کیل گاڑنے کے عمل کی تعداد (1)
کنویں میں ڈالنے والے تعویذ کی تعداد (4)
چاندی کی انگوٹھی پر لکھنے والے نقش کی تعداد (4)
گوشوں میں دفن کرنے والے تعویذ کی تعداد (9)
لکھ کر لٹکانے والے تعویذ کی تعداد (9)
بزرگوں کو ایصال ثواب کرنے والے اعمال کی تعداد (2)

اکابرین و اسلاف میں سے یہ تو ابھی صرف ایک محدث کی ایک کتاب کی تفصیل لکھی گئی ہے۔ ان جیسے سینکڑوں علماء کی سینکڑوں کتابیں عملیات سے بھری ہوئی ہیں۔ جن کا مطالعہ آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025