علامہ لا ہوتی صاحب اور شیخ الخائف دامت برکاتہم کے واقعات میں مزارات کی حاضری کا کر بار بار ملتا ہے اس سفر کو تعلیمات اکابر کی روشنی تلاش کیا جائے تو کتابوں کی کتابیں ان واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ ذیل میں اکابری پر اعتماد کے دوستوں کیلئے جمہ الاسلام کی مزارات پر با ادب حاضری کا ایک واقعہ عرض کرتا ہوں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ عبقری کا کوئی ایک عمل بھی قرآن وسنت و تعلیمات اکا بڑ سے ہٹ کر نہیں۔
حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحب بانی دار العلوم اکثر سال میں کلیر شریف حاضر ہوتے اور اس انداز سے کہ میرے خیال میں آج بھی کوئی بزرگوں کا معتقد شاید (مزارات پر ) اس انداز سے نہ جاتا ہو، رڑ کی ( جگہ کا نام) سے چھ میل کے فاصلے پر حضرت صابر کلیری کا مزار ہے اور نہر کے کنارے کنارے راستہ جاتا ہے ۔ تو آپ نہر کے کنارے پٹری پر پہنچ کر جوتے اتار لیتے تھے۔ چھ میل ننگے پیر طے کرتے وہاں پہنچ کر عشاء کی نماز کے بعد روضہ میں داخل ہوتے ۔ پوری رات مزار پر گزارتے تھے اس میں ریاضتیں ، مجاہدہ ، استفاضہ اور فیض حاصل کرتے اور صبح کی نماز کیلئے وہاں سے نکلتے ۔ حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں کہ اگر وہ مزارات پر جانے کو نا جائز سمجھتے تو خود ننگے پیراد با مزارات کیلئے کیوں پیدل جاتے ۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ” بھی ہندوستان میں جس قدر سلسلے کے اکابر ہیں سفر کر کے ان کے مزارات پر حاضر ہوئے ۔ حضرت شاہ محب اللہ صاحب الہ آبادی کا مزار الہ آباد میں ہے تو وہاں گئے ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور حضرت خواجہ صابر کلیری کے مزار پر بھی آپ نے حاضری دی۔ امام اعظم ابو حنیفہ نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ آداب زیارت میں سے ہے کہ قبلہ کی طرف پشت اور میت کی طرف چہرہ ہو اس لیے کہ وہ (مردہ) تمہاری بات سنے گا اور تمہیں دیکھتا ہے جب یہ تفصیل موجود ہے تو اولیاء اور صلحاء کے مزارات پر بے ادبی اور گستاخی کسی طرح سے جائز نہیں اور اولیاء اللہ ” تو بڑی چیز ہیں صلحا مومنین کی قبروں کے ساتھ بھی گستاخی جائز نہیں ہے۔ قبر کو تکیہ لگانا ، پھلانگ کر جانا قبر کی بے حرمتی ہے۔ جس شریعت نے اولیاء اللہ کی اتنی تو قیر کی ہو کہ ان کی زندگی میں بھی تہذیب سے پیش آؤ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی قبروں سے تو قیر و بھی ان کی قبروا تعظیم کا معاملہ کرو تو کون ہے جو ان کی قبروں کی بے ادبی کو جائز رکھے گا۔
(بحوالہ : خطبات حکیم الاسلام، ج 7 ص 10, 16- ترتیب: مولانا نعیم احمد، مدرس جامعہ خیر المدارس ملتان، ناشر مکتبہ امدادیہ ملتان)
محترم قارئین ! پرفتن دور میں ایمان کی سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اسلاف اور ا کا بڑ کے ساتھ اپنے دامن کو جوڑ لیا جائے۔۔! اللہ کے فضل سے ساری دنیا میں عبقری اور تسی خانہ کی کوشش یہی کرے ہے کہ مرتے دم تم ہمارا دامن اپنے اکابر سے جدا نہ ہو۔ آمین
